03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خواتین کا تعلیم کے لیے دوسرے ملک جانے کا حکم
89723جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے لیے  کسی دوسرے شہر/ریاست/ملک بھیج سکتے ہیں، اگر آس پاس لڑکیوں کے لیے کوئی انسٹی ٹیوٹ نہیں ہو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عورت کے لیے شرعی حدود میں رہتے ہوئے دنیوی تعلیم حاصل کرنا جائز ہےاور اس کے لیے سفر بھی جائز ہے، البتہ اگر دوری شرعی سفر کے برابر ہوتو بغیر محرم کے تنہا سفر کرنا جائز نہیں   اور اگر شرعی سفر سے کم ہو تو پردے کے ساتھ تنہا جانا بھی جائز ہے ۔نیز دوسرے ملک میں رہائش بھی کسی محرم کی سرپرستی ونگرانی میں ضروری ہوگی ۔

حوالہ جات

صحيح ابن خزيمة (4/ 133):

عن ابن عمر: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ‌أن ‌تسافر ‌المرأة ‌ثلاثا ‌إلا ‌ومعها ‌ذو ‌محرم».

سنن الدارقطني (3/ 227):

عن عمرو بن دينار ، عن أبي معبد مولى ابن عباس أو عكرمة ، عن ابن عباس ، أنه قال: جاء رجل إلى المدينة ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «أين نزلت؟» ، قال: على فلانة ، قال: «أغلقت عليك بابها ‌لا ‌تحجن ‌امرأة ‌إلا ‌ومعها ‌ذو ‌محرم».

محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب