03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آن لائن تعلیم کی موجودگی میں مخلوط تعلیم کا حکم
89725جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

آج کل ہوم اسکولنگ اور آن لائن تعلیم بآسانی دستیاب ہے، تو ایسی صورت میں اگر کوئی یہ کہے کہ ہوم اسکولنگ یا آن لائن کلاسز کا معیار اسکول، کالج یا یونیورسٹی کی تعلیم کے مساوی یا بہتر نہیں، تو کیا محض اس بنیاد پر مخلوط تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ جبکہ آن لائن یا گھر پر مبنی تعلیم اور پرائیویٹ امتحانات کی سہولت لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے موجود ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آن لائن تعلیم معیاری اور آسانی سے میسر ہو تو خواتین کو اسی کو اختیار کرنا چاہیے، تاہم  اگر کوئی طالبہ آن لائن نظام سے استفادہ نہ کر سکتی ہو یا اسے تعلیمی معیار کے لحاظ سے ناکافی سمجھے تو وہ پیچھے ذکر کی گئی شرائط کے ساتھ بالمشافہہ تعلیم حاصل کر سکتی ہے۔

حوالہ جات

(سورة النور، الأية:31):

وقل ‌للمؤمنات ‌يغضضن ‌من ‌أبصارهن ويحفظن فروجهن ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها وليضربن بخمرهن على جيوبهن ولا يبدين زينتهن .

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 42):

قال في تبيين المحارم: ‌وأما ‌فرض ‌الكفاية ‌من ‌العلم، فهو كل علم لا يستغنى عنه في قوام أمور الدنيا كالطب.

محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21 /رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب