03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خواتین کا آن لائن مخلوط کلاس میں شرکت کا حکم
89726جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا لڑکی یوٹیوب یا دیگر تعلیمی پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن کلاسز میں شرکت کر سکتی ہے جہاں ایک پلیٹ فارم پر مرد اسا تذہ آن لائن پڑھا رہےہوں؟کیا یہ لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لیے جائز ہے یا بلوغت کی عمر کے بعد اسے آنکھوں سے زنا کے زمرے میں شمار کیا جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کلاس کے دوران خواتین نے اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ وغیرہ کے کیمرے بند رکھے ہوں ،اور ان کاچہرہ غیر مردوں کو دکھائی نہ دے رہا ہو،اسی طرح کلاس کے دوران یا اسکے بعد غیرمردوں سے غیر ضروری گفتگو اور بات چیت نہ ہو ،جو فتنے اور فساد کا باعث ہو ،تو ایسی صورت میں خواتین کےلئے کسی مرد استاد سے سبق پڑھنے یا ایسی آن لائن کلاسزمیں شمولیت اختیار کرنے کی کہ جس میں مرد حضرات بھی موجود ہوں گنجائش ہے۔

حوالہ جات

سنن أبي داود (4/ 106 ط مع عون المعبود):

عن عائشة : «أن أسماء بنت أبي بكر دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وعليها ثياب رقاق، فأعرض عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: يا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحيض لم يصلح لها أن يرى منها إلا هذا وهذا ‌وأشار ‌إلى ‌وجهه ‌وكفيه».

الموسوعة الفقهية الكويتية (2/ 290):

«وقال تعالى عن النساء: {ولا يبدين زينتهن} وقال: {إذا سألتموهن متاعا فاسألوهن من وراء حجاب}»

محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21 /رجب المرجب1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب