| 89754 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
مشترک دیوار میں تصرف کرنے (یعنی اس کو توڑنے یا اس میں کام کروانے) کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
پرانے وقت میں جو پرانی دیوار مشترک ہو تو ابھی اس مشترک دیوار کو توڑنے کا یا اسے میں کام کروانے کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں نے کام بھی کرنا ہے اور مشترک دیوار میں بھی کرنا ہے اور اپنی آدھی مشترک دیوار میں کام کرنا ہے اور اس کے ساتھ دوسری دیوار نہیں لگانی تو اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگرمشترک دیوار کی اتنی چوڑائی ہو کہ دونوں شریک آپس میں آسانی کے ساتھ تقسیم کرسکتے ہیں، تو ہر شریک اپنا حصہ طے ہونے کے بعد میں دوسرے شریک کی رضامندی کے بغیر کام کرسکتا ہے اور اگر دیوار قابل تقسیم نہ ہو اور ايك شريك اس پر تعمیر کرنا چاہتاہو تو اس مشترک دیوار میں دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا۔ البتہ اگر وہ اجازت دے دے تو اس دیوار پر جتنی بھی تعمیر ہوگی وہ اسی شریک کی سمجھی جائے گی جس نے اس پر تعمیر کی ہے۔
تاہم اگر ضرورت ہو جیسے دیوار کے گرنے کا اندیشہ ہو اور دوسرا شریک اس کے گرانے پر راضی نہ ہو تو اس کی رضامندی کے بغیر بھی اس کو گرایا جاسکتا ہے اور بعد میں اگر وہ اس کی ازسر نو تعمیر پر راضی نہ ہو تو اس کی رضامندی کے بغیر بھی اس کی تعمیر کرسکتاہے اور اس کے حصہ میں جو رقم خرچ کی ہے اس میں ان سے رجوع کرسکتاہے۔اور اگر وہ رقم دینے سے انکار کرے تو اس کو دیوار سے منتفع ہونے سے روک سکتاہے جب تک وہ اپنے حصے کی رقم ادا نہ کرے۔
حوالہ جات
رد المحتار ط: الحلبي (6/ 273):
صورة ذلك حائط بين رجلين قدر قامة أراد أحدهما أن يزيد في طوله وأبى الآخر فله منعه ذخيرة وغيرها وإلى ترجيحه لكونه رواية عن محمد أشار بتقديمه، وتعبيره عن الثاني بقيل أفاده ابن الشحنة ثم نقل تقييد المنع بما إذا كان شيئا خارجا عن العادة، ووفق به بين القولين، واعتمده ونظمه في بيت غير به نظم الوهبانية، وكأن الشارح لم يعول عليه لظهور الوجه للأول، لأنه تصرف في المشترك بلا ضرورة فيبقى على الأصل من المنع، ولذا اقتصر عليه في الخانية في باب الحيطان وقال ليس له الزيادة بلا إذن أضر الشريك أو لا. وفي الخيرية: ومثله في كثير من الكتب والفقه، فيه أنه يصير مستعملا لملك الغير بلا إذنه فيمنع، وهذا مما لا شبهة فيه اهـ فتنبه
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 30):
حائط مشترك أراد أحدهما نقضه وأبى الشريك إن كان بحال لا يخاف سقوطه لا يجبر وإن كان بحيث يخاف عن الإمام أبي بكر محمد بن الفضل يجبر وإن هدماه وأراد أحدهما البناء وأبي الآخران كان أساس الحائط عريضا يمكنه أن يبني حائطا في نصيبه بعد القسمة لا يجبر الشريك وإن كان لا يمكن يجبر كذا عن الإمام أبي بكر محمد بن الفضل وعليه الفتوى وتفسير الجبر أنه إن لم يوافقه الشريك أنفق على العمارة ورجع على الشريك بنصف ما أنفق وفي شهادات الفضلي لو هدماه وامتنع أحدهما يجبر ولو انهدم لا يجبر ولكن يمنع من الانتفاع به ما لم يستوف نصف ما أنفق فيه إن فعل ذلك بقضاء القاضي وإن كان بلا قضاء فبنصف قيمة البناء كذا في فتح القدير
الفتاوى الهندية (4/ 102):
وفي الأقضية حائط مشترك بين اثنين أراد أحدهما نقض الحائط وأبى الآخر إذا كان بحال لا يخاف منه السقوط لا يجبر، وإن كان بحيث يخاف عن الإمام أبي بكر محمد بن الفضل - رحمه الله تعالى - أنه يجبر، فإن هدماه وأراد أحدهما أن يبني وأبى الآخر إن كان أس الحائط عريضا يمكنه أن يبني حائطا في نصيبه بعد القسمة لا يجبر الشريك وإن كان لا يمكن يجبر كذا حكى عن الإمام أبي بكر محمد بن الفضل وعليه الفتوى وتفسير الجبر أنه إن لم يوافقه الشريك فهو ينفق في العمارة ويرجع على الشريك بنصف ما أنفق إن كان أس الحائط لا يقبل القسمة كذا في الخلاصة.
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
21/رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


