| 89758 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
مجھ سےWhatsapp کے ذریعے آنلائن کمانے کا پوچھا گیا ،میری حامی بھرنے پر مجھے ایک ٹیلی گرام گروپ میں شامل کیا گیا۔اور وہاں مختلف کام بھیجے جاتے تھے اور میں اس کو سرانجام دیتا رہتا۔ ہر روز تین سوروپےملتے تھے ۔ پھر میں نےاس حوالے سے یوٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھی جس کے مطابق یہ سارا فراڈ اسسٹم ہے۔ اس پر میں نے ٹیلی گرام والا گروپ چھوڑ دیا۔ مختلف قسم کے ٹاسک کو پورا کرنے کے نتیجے میں ملنے والی رقم میرے لیے حلال ہوگی یا حرام؟
تنقیح:استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کے ذمے مختلف ایپس کو ووٹ دینے پر ان کو پیسے دیئے جاتے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ٹیلی گرام ایپ اوراس طرح کی دیگر اپیلیکیشنزمیں بالعموم جو کام ذمے لگائے جاتے ہیں وہ شریعت کی نظر میں کوئی قابل قدر منفعت نہیں ہے۔ نیز اس کے علاوہ اس سے فیک شہرت کے لیے ووٹ یا ریویوز لیے جاتے ہیں جو کہ غلط بیانی ہے ،لہذا اس سے گریز کرنا چاہیے۔اس سے حاصل شدہ آمدنی بھی حلال نہیں،لہذا ایسی آمدن ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دیں۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 4):
)هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية.
المحيط البرهاني (7/ 484):
ولا تنعقد على حمله وتقليب الأوراق وإن كان لا يملكه المستأجر من غير إجارة؛ لأنه لا فائدة للمستأجرفي ذلك، ألا ترى أنه لو نص فقال: استأجرت منك هذا الكتاب لأحمله وأقلب أوراقه، بأن الإجارة لا تصح فكذلك ها هنا.
اسفندیارخان بن عابد الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
22/ رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسفندیار خان بن عابد الرحمان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


