03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل چوری کرنے پر مالک کے نقصان کی تلافی کا حکم
89373غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

میرا موبائل فون چوری ہو گیا تھا اور اس میں موجود 45 ہزار کی رقم بھی نکل گئی، کچھ دن بعد شواہد سے معلوم ہوا کہ میرا موبائل میرے ہی ایک قریبی دوست نے چوری کیا ہے، جب ابتدائی شواہد سامنے آئے تو اس نے انکار کیا اور کہا کہ میرے پاس موبائل نہیں ہے،پھر گواہوں کی موجودگی میں اس نے یہ بات تسلیم کی کہ اگر بعد میں موبائل میرے پاس سےنکلا تو میں موبائل اور موبائل میں موجود رقم اور اس دوران مالک پر ہونے والے تمام اخراجات (باقی اخراجات کی ریکوری وغیرہ) کا ذمہ دار ہوں گا۔ "

بعد میں مزید شہادتیں سامنے آنے پر دونوں خاندانوں کے افراد اکٹھے ہوئے تو چور کے گھر والوں نے چوری کا اعتراف کیا اور کہا کہ اس وقت موبائل ان کےپاس نہیں ہے، اس موقع پر فیصلہ یہ ہوا کہ مالک کو موبائل اور دوسرے نقصان کے طور پر ایک لاکھ روپے ادا کیے جائیں۔اور اگر بعد میں موبائل برآمد ہو جائے تو وہ مالک کو واپس کیا جائے گا۔چنانچہ مجھے اس وقت ایک لاکھ روپے دیے گئے۔

بعد ازاں اسی چور سے میرا اصل موبائل بھی برآمد ہو گیا۔ موبائل کی اصل قیمت ایک لاکھ 27 ہزار روپے تھی، اور موبائل کے اندر 45 ہزار روپے موجود تھے،جنہیں چور نے نکال کر استعمال کر لیا تھا۔اس طرح موبائل، اندر کی رقم، ڈیٹا اور دیگر اخراجات ملا کر میرا مجموعی نقصان تقریباً دو لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا۔اب سوال یہ ہے کہ  چونکہ میں چور سے ایک لاکھ روپے پہلے ہی لے چکا ہوں اور بعد میں موبائل بھی واپس مل گیا ہے، تو شرعاً اس موبائل کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اصولی طور پر جتنا آپ کا نقصان ہوا ہے آپ چوری کرنے والے شخص سے اس کی تلافی کروا سکتے ہیں، لہذا جب صلح میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ"مالک کو موبائل اور دوسرے نقصان کے طور پر ایک لاکھ روپے ادا کیے جائیں۔اور اگر بعد میں موبائل برآمد ہو جائے تو وہ مالک کو واپس کیا جائے گا۔"اور پھراس کے بعد موبائل مل گیا تو آپ کو اپنا موبائل واپس لینے کا حق حاصل ہے، اس کے علاوہ  جہاں تک ایک لاکھ روپیہ کا تعلق ہے  تواس کو موبائل ملنے پرتحت الحساب شمار کیا جائے گا، لہذا اگرموبائل کے علاوہ آپ کا ایک لاکھ روپے تک نقصان ہوا ہے تو معاملہ برابر ہو گیا اور آپ کے ذمہ وصول کیے گئے لاکھ روپیہ میں سے کچھ بھی واپس کرنا لازم نہیں، البتہ اگر آپ کا نقصان اس سے کم ہوا ہے تو بقیہ رقم چوری کرنے والے شخص کو واپس کرنا ضروری ہے، کیونکہ شریعت کا اصول یہ ہے کہ جو شخص کسی کا جتنا نقصان کرے اس کو اسی کے مطابق ضامن ٹھہرایا جا سکتا ہے، اس سے زیادہ رقم کا ضامن بنانا جائز نہیں۔

حوالہ جات

القرآن الكريم [الشورى: 39 - 41]

{وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ (39) وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (40) وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ (41)}

القرآن الكريم [النحل: 126]

{وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ (126)}

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

23/جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب