03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مضاربت کا شرعی طریقہ کار کیا ہے؟
89902خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں چشمے کی دوکان میں کام کرتا ہوں،اور اس کام کو کرتے ہوئے بیس سال ہو گئے ہیں۔ میرے ایک پرانے جاننے والے ہیں عامر بھائی، وہ چشمے کے کام میں پیسہ لگانا چاہتے ہیں۔ مطلب پیسہ ان کا ہوگا اور محنت میری ہوگی، منافع ہم کام شروع کرنے سے پہلے آپس میں طے کرلیں گے کہ کون کتنا منافع لے گا۔ ہم نے چاہا کہ کام شروع کرنے سے پہلے استخارہ کریں کہ یہ کام کرنا بہتر بھی ہے یا نہیں۔ اور پھر ہم شرعی اور قانونی رہنمائی بھی حاصل کرتے رہیں گے۔ مگر میرے استخارہ کرنے پر کوئی جواب نہیں آیا۔ مجھے کسی نے مشورہ دیا کے میں دار الافتاء سے رابطہ کروں اور ان سے شرعی رہنمائی لوں۔ اس لیے میں نے آپ سے رابطہ کیا ہے برائے مہربانی میری راہنمائی فرمائیں  ۔  اس میں چونکہ ان کا پیسہ لگے گا اور میری محنت، ان کا پیسہ اور میری عزت کا رسک ہے۔ اور شریعت کا کیا حکم ہے ہمارے لیے کہ ہمیں کس طرح کام کرنا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   صورت مسئولہ فقہی اعتبار سے مضاربت کہلاتی ہے۔اس میں ایک کا پیسہ اور دوسرے کی محنت ہوتی ہے۔نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوگااور نقصان اولا نفع سے پورا ہوگا۔اگر زیادہ ہو تو رب المال یعنی انویسٹر برداشت کرے گا، اس طرح عقد کرنا جائزہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية: (285/4)

   "(كتاب المضاربة)...  أما تفسيرها شرعاً،فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر."

تنویر الابصار مع الدر المختار:(656/5)

   "(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس المال وما فضل بينهما، وإن نقص لم يضمن) لما مر."

درر الحکام: (459/3)

   قال العلامۃ أمين أفندي رحمہ اللہ: "يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال إذا تجاوز الربح؛ إذ يكون الضرر والخسار في هذا الحال جزءا هالكا من المال ؛فلذلك لا يشترط على غير رب المال ولا يلزم به آخر."

سید سمیع اللہ شاہ 

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

23/رجب المرجب  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب