03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
الفاظِ کنایہ میں بیوی کے شوہر سے قسم لینے کا حکم
89880طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میں ......... نے اپنی بیٹی .......... کی شادی 2 سال قبل اپریل 2024ءمیں فلاں........ ولد محمد یعقوب نامی لڑکے سے کی تھی۔مئی 2025ءمیں محمد اویس نے گھریلو جھگڑے اور ناچاقی کی وجہ سے میری بیٹی کو ایک طلاق دی، جس کے الفاظ یہ تھے " میں محمد اویس یعقوب اپنے ہوش و حواس میں تمھیں طلاق دیتا ہوں " صرف چند دن گزرنے کے بعد دوبارہ یہی الفاظ دہرا کر دوسری طلاق دی گئی۔ اور اس کے بعد دونوں دفعہ فوراً رجوع کر لیا گیا۔ چھ سات ماہ اکٹھے رہنے کے بعد میری دوسری بیٹی کی شادی پر مہک ذوالفقارکو والدین کے گھر شادی میں شرکت کےلئے بھیج دیا گیا اور اس کے دو تین دن گزرنے کے بعد اویس نے مجھے اور میرے بہنوئی محمد شہزاد کو ایک وائس میسج بھیج دیا، جس کے الفاظ یہ ہیں:  السلام و علیکم مہک ذوالفقار آپ کے پاس آچکی ہے، اس کو صحیح سلامت آپ تک پہنچا دیا ہے۔ میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں، مہک ذوالفقار کے ساتھ اب میرا کوئی تعلق نہیں ہے، میں نے اس کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کی، مگر ایسا نا ممکن رہا، لہذا اب مہک آپ کی امانت آپ کے پاس ہے، اب ہمارے گھر اور ملتان کی طرف اس کے راستے بند ہیں، آپ اپنی بیٹی کی حفاظت خود کریں، وہ ہماری نہیں بن سکی۔ اب آپ نے اس کو بھیجنا ہے یا نہیں بھیجنا، ہماری کوئی سر دردی نہیں۔ اس کے آنے یا نہ آنے میں ہمارے گھر کا کوئی بندہ شامل نہیں ہے۔ نہ میں اس سے کوئی رابطہ کروں گا اور نہ ہی وہ میرے ساتھ رابطہ کرے، ہمارا رشتہ ختم ہو چکا ہے، سامان کے لیے آپ بڑوں سے بات کریں گے ،آپ چاہے خلع لے لیں یا جو بھی معاملات کرنے ہیں آپ نے خودسوچنا ہے ، آپ کا سامان اور چیزیں ہمارے پاس امانت ہیں،  آپ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ نہ میرے گھر والوں نے اس سے رابطہ کرتا ہے اور نہ ہی اس کی واپسی کا کوئی راستہ ہے۔ اس میں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ۔ یہ آخری میسج ہے آپ اپنا مامان وصول کر سکتے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ آپ مہک صاحبہ کو منہ اٹھا کر یہاں بیچ دیں، کیونکہ ملتان کے دروازے اس کے لئے بند ہیں۔  اس وائس میسج کو بھیجنے کے تین  دن بعد اویس یعقوب نے میرے بہنوئی شہزاد کو کال کر کے اپنے اس وائس میسج سے منحرف ہوا اور کہا کہ آپ لوگ خلع فائل کریں ۔

وضاحت: سائل نے شوہر کا وائس میسج بھیجا، جس میں اس نے واضح طور پر دو مرتبہ کہا کہ یہ مجھ سے طلاق لے چکی ہے، آپ کے گھر آ چکی ہے، اب میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمارا رشتہ ختم ہو چکا ہے۔پھرشوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا میں نے سابقہ دو طلاقوں کی بنیاد پر کہا تھا کہ یہ مجھ سے طلاق لے چکی ہے، میں نے کوئی اور طلاق نہیں دی اور مذکورہ الفاظ سے طلاق کی نیت کی ہے، میرا مکمل میسج سابقہ طلاقوں کی وجہ سے تھا، کیونکہ میں اس کو شادی پر آنے سے روک رہا تھا، پھر میں نے کہا اگر جانا چاہتی ہو تو اپنی مرضی سے جاؤ، اس کے بعد میں نے یہ میسج کیا، باقی اگر یہ خلع لیں گے تو لے لیں، میں خلع کے کاغذات پر دستخط کر دوں گا، میرا مقصد یہ ہے کہ طلاق کی بات ان کی طرف سے چلے، میں خود طلاق نہیں دوں گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں شوہر کی طرف سے وائس میسج میں کہے گئے الفاظ کنایاتِ طلاق کے ہیں اور ان الفاظ میں طلاق کی نیت کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اور شوہر کی مکمل گفتگواگرچہ طلاق کی نیت پر دلالت کرتی ہے، لیکن شوہر کے بیان کے مطابق چونکہ اس نے ان الفاظ سے طلاق کی نیت نہیں کی، بلکہ یہ سب  الفاظ سابقہ دو طلاقوں کی بناء پر کہے ہیں، اس لیے اب حکم یہ ہے کہ اگر شوہر اپنے اس بیان پرحلف دینے کو تیار  ہے اور عورت کو اس کے حلف پر یقین آجائےتو بیوی کے لیے دیانتاً اس سے حلفیہ بیان لے کر اس کے ساتھ رہنا جائز ہے، اگر شوہر حلفیہ بیان دینے سے انکار کرے تو ایسی صورت میں عورت کےلیے اس شخص کے ساتھ رہنا جائز نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ عورت عدالت سے رجوع کر ے اور سوال میں ذکر کی گئی مکمل گفتگو تحریری طور پر یا وائس میسج کی صورت میں عدالت میں پیش کردی جائے،  عدالت خاوند کو بلا کر قسم لے گی، اگر شوہر عدالت میں حاضر ہو کر مذکورہ میسج میں موجود گفتگو میں طلاق کی نیت نہ ہونے پر قسم اٹھا دے تو عدالت تیسری طلاق کے عدمِ وقوع کا فیصلہ کر دے گی اور عورت کا اس کے ساتھ رہنا جائز ہو گا، لیکن اگر وہ عدالت کے سامنے بھی قسم اٹھانے سے انکار کر دے تو اگر عدالت شوہر کے ظاہری الفاظ پر عمل کرتے ہوئے وقوعِ طلاق کا فیصلہ کر دے تو تیسری طلاق بھی واقع ہو جائے گی اور پھر ان دونوں مردوعورت کے لیے اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں ہو گا، نیز ایسی صورت میں شرعی طریقہٴ کار کے مطابق بغیر حلالہ کے رجوع یا دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔  

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 300) الناشر: دار الفكر-بيروت:

(تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى. (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية؛ لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بها عمادية.

النهر الفائق شرح كنز الدقائق (2/ 356) الناشر: دار الكتب العلمية:

وعند الفقهاء ما احتمل طالق وغيره (لا تطلق بها) أي: بالكناية يعني قضاء (إلا بالنية) أي: نية الطلاق (أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، أما في الديانة فيصدق بيمينه ويكفي تحليفها له في البيت فإن امتنع رفعته إلى القاضي، فإن نكل فرق بينهما.

الفتاوى الهندية (1/ 375) الناشر: دار الفكر، بیروت:

"ولو قال لها: لا نكاح بيني وبينك، أو قال: لم يبق بيني وبينك نكاح، يقع الطلاق إذا نوى".

الفتاوى الهندية (1/ 375) الناشر: دار الفكر، بیروت:

ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى ولو قالت المرأة لزوجها لست لي بزوج فقال الزوج صدقت ونوى به الطلاق يقع في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في فتاوى قاضي خان.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

28/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب