03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدت اور حلالہ کا بیان
89895طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

السلام علیکم۔۔مفتی صاحب آپ سے گزارش ہے۔۔حوالہ نمبر 89249 اس مسئلہ کا مجھے براہ مہربانی حل بتائیں۔۔۔یہ واقعہ 2021 میں ہوا۔۔۔اور ہم تو مفتی صاحب سے مسئلہ حل کر کے ایک ساتھ رہتے رہے۔۔۔اب اسی عرصے میں ہمارے دو بچے ہیں۔۔ہم الگ نہیں ہونا چاہتےہیں۔۔اب عدت گزر چکی ہے یا اب عدت شروع ہو گئی۔۔۔2021 میں طلاق کے لفظ بولے گئے تھے۔۔۔عدت اب کرنی ہوگی یا عدت کا وقت گز رگیا ؟واضح رہے کہ ہم ساتھ رہتے رہے ۔۔اور اب ہم بچوں کے لیے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔۔تو حلالہ شریعت  کے مطابق کیسے کریں جس سے مستقبل میں ہم دوبارہ نکاح کرلے۔۔۔مفتی صاحب ہم نے پہلے بھی یہ مسئلہ پوچھا ابھی تک جواب نہیں ملا۔۔براہ مہربانی فرما کر اس کا جلد جواب فرما دیں۔۔ ۔۔جزاک اللہ خیرا.

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  جس وقت آپ نے بیوی کو تین طلاقیں  دی تھی اس وقت سے وہ آپ پر مکمل حرام ہوگئی تھی ،  اور اس کے بعد  آپ  دونوں  کا  ایک ساتھ رہنا اور ازدواجی تعلق  قائم رکھنا  حرام  تھا  ۔لہٰذا    اب    آپ پر لازم ہے کہ  اس  کو فی الفور  اپنے سے  علیحدہ کریں  ۔ تاہم آپ کا  ایک ساتھ رہنا اور ازدواجی  تعلق رکھنا غلط فہمی کی وجہ  سے ہے ،اس لیے اس پر توبہ استغفار  کریں ۔    طلاق واقع ہونے کے فورا بعد عدت شروع ہوتی ہے  لہٰذا اس کی عدت  گزر گئی ہے ۔اب اگر اس کے بعد  آپ ایک  ساتھ رہنا چاہتے ہیں  تو اس کا  طریقہ یہ ہے کہ  یہ عورت کسی دوسرے  شخص سے نکاح کرے  اور اس کے ساتھ   ازدواجی تعلق  قائم کرے ،پھر اگر  وہ  اپنی  خوشی اور مرضی سے طلاق دے  تو  اس کے بعد دوبارہ عدت گزار  کر   آپ اس سے دوبارہ  نکاح کرسکتے ہیں،تاہم ایسا  طے کر کے کرنا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (4/ 329):

(‌وابتداء ‌العدة ‌في ‌الطلاق ‌عقيب ‌الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها) لأن سبب وجوب العدة الطلاق أو الوفاة فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب،

الموسوعة الفقهية الكويتية (29/ 326):

ذهب الحنفية إلى أن العدة تبدأ في الطلاق عقيب الطلاق، وفي الوفاة عقيب الوفاة، لأن سبب وجوب العدة الطلاق أو الوفاة، فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت مدتها،

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187):

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 257):

وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها "

 وسیم اکرم  بن محمد ایوب  

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 06/شعبان المعظم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب