| 89892 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
محتاج شخص کے لیے زکاۃ لینے کاحکم
میں ایک کمپنی میں سیکیورٹی گارڈ ہوں میری تنخواہ 41380 روپے ہے ،میرے بچے کاانڈس ہسپتال میں آپریشن ہے 18-02-2026 کو، مجھے آپریشن کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے میرے پاس پیسے نہیں ہے اس لیے میں زکاۃ میں سے لیناچاہتاہوں جس کے لیے مجھے کہاگیاہے کہ آپ فتوی لیں ۔
تنقیح :سائل کاکہناہے میری ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے ایک زمین ہے جو ہم بہن بھائیوں کی مشترکہ تھی مگر وہ میرے علاوہ تین بھائیوں نے اپنے قبضہ میں لی ہے ہمیں اپناحصہ نہیں دے رہے اور میں مجبور ہوں مجھے پیسوں کی ضرورت ہے میں نے اپنے بیٹے کا آپریشن کرناہے میرے پاس ایساکچھ نہیں کہ اپنے بیٹے کاآپریشن کرسکوں۔لہذا اگر کمپنی میرے ساتھ زکاۃ کے مد میں تعاون کرےتومیرے لیے جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃصورت حال یہی ہو کہ سائل کی ملکیت میں نقد رقم، سونا، چاندی یا ضروریاتِ زندگی سے زائد کوئی ایسا سامان موجود نہیں جس کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، تو ایسی صورت میں سائل شرعاً مستحقِ زکاۃ ہے۔
لہٰذا اگر کمپنی زکاۃ کی مد میں سائل کے ساتھ تعاون کرے تو سائل کے لیے اس زکاۃ کا لینا جائز ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 48):
لا بأس بأن يعطى من الزكاة من له مسكن وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله فإن كان له فضل عن ذلك ما يبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 189):
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان... ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 48):
وذكر في الفتاوى فيمن له حوانيت ودور الغلة لكن غلتها لا تكفيه ولعياله أنه فقير ويحل له أخذ الصدقة،
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
07/شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | سعید احمد حسن صاحب / شہبازعلی صاحب |


