| 89928 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ ایک ملک کی کرنسی کا باہم تبادلہ کیا جائے تو اس میں علتِ ربا کیا ہے؟ اشیاء ستہ ربویہ کی حدیث شریف میں ربا کی علت احناف کے ہاں قدر مع الجنس ہے ، یہ بات احناف کی فقہ اور اصول فقہ کی کتب میں موجود ہے، احناف کے فقہی متون میں قدر کی وضاحت کیل اور وزن سے کی گئی ہے ۔ کاغذی کرنسی کے تبادلہ میں " قدر " (کیل ، وزن ) کا اعتبار کیا گیا ہے یا عددی متقارب کا ؟ اگر کرنسی میں کیل اور وزن کا اعتبار کیا گیا ہے تو کاغذی کرنسی نہ کیلی ہے اور نہ ہی وزنی ہے،پھراس کو کس طرح سے اموال ربویہ میں شامل کیا گیا؟ اگر عددی متقارب کا اعتبار کیا گیا ہے تو کس دلیل کی بنیاد پر اس علت کا استنباط کیا گیا ہے؟ اگر اس کے علاوہ کوئی دلیلِ استنباط ہے تو براہ کرم اس کی طرف راہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ ربا کا اطلاق عقد میں ایسی مشروط زیادتی پر ہوتا ہے جو خالی عن العوض ہو، جس کوفقہاء) الفضل الخالی عن العوض المشروط فی العقد (سے تعبیر کرتے ہیں۔یہ تو ربا کی اصل تعریف ہے۔
نیز اشیائے ستہ میں ہم جنس کا کمی بیشی کے ساتھ، یا ادھار خرید و فروخت کو بھی حدیثِ نبوی -على صاحبها الصلاة والسلام- میں ربا قرار دیا گیا ہے۔ اس میں علت حضراتِ حنفیہ کے ہاں قدر مع الجنس ہے۔ لہٰذا اموالِ ربویہ حضراتِ حنفیہ کے ہاں مکیلات اور موزونات تک محدود ہیں۔ عددیات متقاربہ اور متفاوتہ میں تفاضل جائز ہے ، اس لیے کہ نہ وہاں ربا کی اصل تعریف صادق آتی ہے (الفضل الخالی عن العوض المشروط فی العقد) اور نہ وہاں اشیائے ستہ کی علت (قدر مع الجنس) پائی جاتی ہے۔
تاہم اگر عددی چیز، متقارب نہ رہیں، بلکہ امثالِ متساویہ قطعاً بن جائیں تو وہاں ربا کی اصل تعریف (الفضل الخالی عن العوض المشروط فی العقد) کی رو سے تفاضل اور نسیہ کی صورت میں ربا لازم آتا ہے۔
اسی بنا پر ایک ہی ملک کی کرنسی کے نوٹوں کے باہمی تبادلے میں ربا کی اصل علت ان کا امثال متساویہ ہوناہے ۔
اسی بات کو شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب۔حفظہ اللہ تعالی۔ نے یوں لکھا ہے:نوٹوں کے تبادلے کی دو صورتیں ہیں:
ایک یہ کہ ایک ہی ملک کے دو نوٹوں میں تبادلہ ہو، جیسے سو کے پاکستانی نوٹ کا تبادلہ دس دس روپے کے 10 نوٹوں سے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ایک ملک کی کرنسی کا دوسرے ملک کی کرنسی سے تبادلہ ہو۔
پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ چونکہ یہ بیعِ صرف نہیں، اس لیے تقابض فی المجلس تو ضروری نہیں، تاہم احد البدلین پر مجلس میں قبضہ ضروری ہے، تاکہ بیعُ الدَّین بالدَّین لازم نہ آئے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس تبادلے میں تفاضل جائز ہے یا نہیں؟ مثلاً 100 روپے کا تبادلہ نوے روپے سے جائز ہے یا نہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر دونوں بدل غیر متعین ہوں تو حنفیہ کے تینوں ائمہ کے ہاں تفاضل جائز نہیں، اس لیے کہ
فلوس میں جودت و رداءت کا تو اعتبار ہے نہیں، لہٰذا یہ امثالِ متساویہ ہیں قطعاً۔ یہاں ایک بدل کی زیادتی دوسرے بدل کے وصفِ جودت کے مقابلے میں تو ہو نہیں سکتی، اس لیے کہ وصفِ جودت ہدر ہے، لہٰذا یہ زیادتی خالی عن العوض ہے، اسی کو ربا کہتے ہیں۔
اگر دونوں بدل متعین ہوں تو شیخین کے ہاں تفاضل جائز ہے۔ ان کے ہاں متعاقدین کی تعیین سے ان کی ثمنیت باطل ہو گئی، اب یہ عروض بن گئے ہیں، اس لیے ان میں تفاضل جائز ہے۔
امام محمد کے ہاں اس صورت میں بھی تفاضل جائز نہیں، ان کی تعیین سے ان کی ثمنیت باطل نہیں ہوتی۔
آج کل امام محمد کے قول پر ہی فتویٰ دینا چاہیے، اس لیے کہ اگر شیخین کا قول اختیار کر لیا جائے تو ربا کا دروازہ کھل جائے گا۔ چنانچہ فقہائے متقدمین میں بھی اس کی نظیر موجود ہے۔ فقہائے ماوراء النہر نے عدالی اور غطارفہ میں تفاضل کی حرمت کا فتویٰ دیا تھا، حالانکہ ان میں غش غالب ہوتا تھا، اور ایسے نقود میں اصل مذہب کے مطابق تفاضل جائز ہے۔ سدِّ بابِ ربا کے لیے تفاضل کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
ایسی ہی فلوس میں تفاضل کے بارے میں بھی امام محمد کے قول پر فتویٰ دینا چاہیے، لہٰذا ایک ملک کے نوٹوں کی بیع میں تفاضل جائز نہیں، تماثل ضروری ہے۔ اور یہ تماثل نوٹوں کی گنتی سے نہیں ہوگا، بلکہ ان پر لکھی ہوئی قیمت۔۔۔۔۔۔۔ (Face Value) کے مطابق ہوگا۔
حوالہ جات
وفي تكملة فتح الملهم(549/1):
الخلاصةُ: أنَّ التَّفاضلَ فيما بينَ الفلوسِ لا يجوزُ عند المالكيَّةِ لكونِ الثمنیةِ علَّةً عندَهم لتحريمِ رباالفضلِ، وعندَ محمد لكونه فضلًا خاليًا عن العوضِ في الأمثالِ المتساويةِ قطعًا، وكذلك عندَ الشيخين في فلوس غير مُعيّنة، وأمَّا في الفلوس معينة، فيجوزُ عندَهما التَّفاضلُ إذا لم يقصد ثمنية الفلوس؛لأنّ ثمنية الفلوس عندهما تقبل السقوط باصطلاح المتعاقدين . هذا إذا وقعَ تبادل الفلوس بجنسها،وأمَّا إذا وقعَ بغير بجنسِها فيجوز التَّفاضُلُ في قولِهم جميعا، وتحرمُ النَّسيئةُ في قولِ مالكٍ،لكون ذلك صرفاً عنده،ولاتحرم على قياس قول الحنفية،لأنه لاقدر فيها و لاجنس،،، إلى أن قال(حفظه الله تعالى):المختارُ عندنا قولُ مَن يجعلُها أثمانًا اصطلاحيَّةً، وحينئذٍ نُجري عليها أحكامَ الفلوسِ سواءً بسواءٍ. وقدَّمنا آنفًا أنَّ مبادلةَ الفلوسِ بجنسِها لا تجوزُ بالتفاضلِ عندَ محمد رحمهُ الله، وينبغي أن يُفتَى بهذا القولِ في هذا الزمانِ سَدّاً لبابِ الرِّبا. وعليه، فلا يجوزُ مبادلةُ الأوراقِ النَّقديَّةِ بجنسِها متفاضلةً، ويجوزُ إذا كانت متماثلةً. والمُماثلةُ هاهنا أيضًا تكونُ بالقيمةِ لا بالعددِ، كما في الفلوسِ، فيجوزُ أن يُباعَ ورقٌ نقديٌّ قيمتُه عشرُ روبياتٍ بعشرةِ أوراقٍ قيمةُ كلِّ واحدةٍ منها روبيَّةٌ واحدةٌ، ولا يجوزُ أن يُباعَ الأوَّلُ بإحدى عشرةَ ورقةً من الثانيةِ.
و في درر الحكام شرح غرر الأحكام(200/2):
هاهنا أصلان أحدهما أن كل ما كان مبادلة مال بمال يفسد بالشرط الفاسد؛ لأن الشرط الفاسد من باب الربا وهو في المعاوضات المالية لا غيرها من المعاوضات والتبرعات؛ لأن الربا هو الفضل الخالي عن العوض وحقيقة الشروط الفاسدة كما مر.
و في البدائع(185/5):
ويجوز بيع المعدودات المتقاربة من غير المطعومات بجنسها متفاضلا عند أبي حنيفة وأبي يوسف بعد أن يكون يدا بيد كبيع الفلس بالفلسين بأعيانهما، وعند محمد لا يجوز.
(وجه) قوله: إن الفلوس أثمان فلا يجوز بيعها بجنسها متفاضلا كالدراهم، والدنانير، ودلالة الوصف عبارة عما تقدر به مالية الأعيان، ومالية الأعيان كما تقدر بالدراهم، والدنانير تقدر بالفلوس فكانت أثمانا؛ ولهذا كانت أثمانا عند مقابلتها بخلاف جنسها، وعند مقابلتها بجنسها حالة المساواة، وإن كانت ثمنا فالثمن لا يتعين، وإن عين كالدراهم، والدنانير فالتحق التعين فيهما بالعدم فكان بيع الفلس بالفلسين بغير أعيانهما، وذا لا يجوز؛ ولأنها إذا كانت أثمانا فالواحد يقابل الواحد فبقي الآخر فضل مال لا يقابله عوض في عقد المعاوضة، وهذا تفسير الربا.
وفي تكملة فتح الملهم(1/548):
و أما الحنفية فالفلوس عندهم عددية، فليست من الأموال الربوية، فأحكامها من هذه الجهة على وجوه عندهم، والحكم فيها مختلف،،، إلی أن قال:والفلوس ليست من الأموال الربوية عند الحنفية، فليكن الفضل جائزًا فيها كما في سائر المعدودات؟ فالجواب: أن الفضل عن العوض حرام في سائر الأموال، ولكن الفضل في غير الأثمان والفلوس لا يكون خاليًا عن العوض، فإن التماثل بين آحاد المعدودات ثبت شرعًا ولا عرفًا ولا حسًا، فالتفاوت فيها الظاهر لا يعد يسيرًا، وحينئذ يصح أن يكون الواحد عوضًا عن الاثنين، لزيادة جودة في الواحد، أو نقصانها في الاثنين، فيكون كل واحد عوضًا لكلا الاثنين، بخلاف الأثمان ومنها الفلوس، فإن آحادها متماثلة قطعًا، ولا تفاوت بينها من حيث الصفة التي هي المقصودة منها، فالواحد منها للواحد قطعًا، ولا يصح منها أن يقال إن الواحد عوض الاثنين، فلما صار الواحد عوضًا للواحد لا لأكثر، يبقى الآخر بلا عوض، وهذا حرام، هذا ما ظهر لي في تقرير مذهب الحنفية في هذا الباب.
و في فتح القدير(21/7):
أن يبيع فلسا بغير عينه بفلسين بغير أعيانهما لا يجوز لأن الفلوس الرائجة أمثال متساوية قطعا لاصطلاح الناس على سقوط قيمة الجودة منها فيكون أحدهما فضلا خاليا مشروطا في العقد وهو الربا.
و في بحوث في قضايا فقهية معاصرة(1/155):
و بعد ما ثبت كون هذه الأوراق في حكم الفلوس،ننتقل إلى الأحكام المتعلقة بها،،،إلى أن قال: واما بيعها على التفاضل بأن تكون قيمه أحد البدلين أكثر من الآخر كبيع الروبية بالربيتين والرّيال بالرّيالين والدولار بالدولارين فتجري فيه أحكام بيع الفلوس بالتفاضل وفيه خلاف مشهور للفقهاء،،،إلى أن قال: فيجب الآن -فيما أرى- أن يختار قول الامام مالك أو الإمام محمد -رحمهم الله- في مسألة بيع النقود الرمزية بعضها ببعض.
وفي فتح القدير (7/8):
قوله:(لأن الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه) أي في العقد، وعلمت أن الخلو في المعاوضة لا يتحقق إلا عند المقابلة بالجنس فلزم ما قلنا من الكيل أو الوزن مع الجنس.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
7 /8/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


