| 89929 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
سوال یہ ہے کہ ایک علاقہ میں ایک چیز وزن کے اعتبار سے خرید و فروخت ہوتی ہے ، جبکہ دوسرے علاقہ میں وہی چیز عدد کے اعتبار سے خرید و فروخت کی جاتی ہے ۔ مثلاً " میٹھا " ایک پھل ہے جو ملتان اور اس کے گرد و نواح میں وزن کے اعتبار سے فروخت کیا جاتا ہے ، جبکہ لاہور میں عدد کے اعتبار سے ۔ اس طرح کی چیزوں کو عددی کہا جائے گایا وزنی، سوال کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب ایک ہی جنس کا باہم تبادلہ ہوتا ہے اور بدلین میں نوعیت کا فرق ہوتا ہے، یعنی ایک سائز اور ذائقہ میں بہترین ہوتا ہے، دوسر ے کا ذائقہ بھی معیاری نہیں ہوتا اور سائز بھی چھوٹا ہوتا ہے، اس صورت میں دس کلو اچھے میٹھے کے بدلہ میں پندرہ کلو درجہ دوم کے میٹھے بیچے جاتے ہیں، کہیں پانچ درجن اچھے میٹھے کے بدلہ میں سات درجن درجہ دوم کے میٹھے بیچے جاتے ہیں۔ کیا یہ معاملہ جائز ہے، اگر جائز نہیں تو اس کی علت کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اشیائے ستہ : گندم، جو، نمک اور کھجور کا کیلی ہونا، اور سونا و چاندی کا وزنی ہونا نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہے۔اب اگر عرف میں مثلاً گندم کو وزن کے حساب سے بیچا جائے، یا سونا اور چاندی کو کیل کے حساب سے فروخت کیا جائے، تو اس مسئلے میں حضراتِ طرفین کے نزدیک یہ طریقہ ناجائز ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جائز ہے،کیونکہ اشیاء کے کیلی یا وزنی ہونے کا مدار عرف پر ہے ۔اور فتویٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔اشیائے ستہ کے علاوہ دیگر تمام اشیاء کے کیلی یا وزنی ہونے کا مدار بالاجماع عرف پر ہے۔لہٰذا جس علاقے میں میٹھا وزن کے حساب سے فروخت کیاجاتاہو، وہاں اس کا ہم جنس کے ساتھ لین دین برابر اور نقد ہونا ضروری ہے۔اور جس علاقے میں میٹھا عدد (درجن ) کے حساب سے فروخت کیاجاتاہو، وہاں ہم جنس کے ساتھ تبادلہ کی صورت میں کمی بیشی جائز ہے، البتہ نسیہ( ادھار) جائز نہیں ہے۔
نوٹ:جب میٹھا عددی متقارب ماناجائے، تو اس میں اور کرنسی نوٹ میں یہ فرق ہے کہ کرنسی نوٹ امثالِ متساویہ ہیں ، لہٰذا جب اس کا ہم جنس سے تبادلہ ہو تو برابر اور نقد ہونا ضروری ہے، ورنہ کمی بیشی کی صورت میں یا ایک جانب سے ادھار کی صورت میں ایسی زیادتی لازم آئے گی جس کے مقابلے میں کوئی عوض نہیں، اوریہ ربا کی تعریف میں داخل ہے۔
لہذا کرنسی نوٹ میں تفاضل کے عدمِ جواز کی وجہ امثال متساویہ ہوناہے ۔باقی میٹھا چونکہ امثال متساویہ قطعا نہیں، اس لیے ہم جنس کے ساتھ تبادلے کی صورت میں اگر کمی بیشی پایاجائے تو الفضلُ الخالي عن العوضِ المشروطُ في العقدکا اشکال لازم نہیں آتا۔
رہی یہ بات کہ کون سی چیز امثالِ متساویہ میں داخل ہے اور کون سی نہیں، تو یہ ایک مستقل بحث ہے، جو اس سوال میں نہیں پوچاگیاہے۔
حوالہ جات
و في فتح القدير(7/16):
(وكل ما نص على تحريم التفاضل فيه وزنا فهو موزون أبدا مثل الذهب والفضة لأن النص أقوى من العرف) لأن العرف جاز أن يكون على باطل ، ،،،(وما لم ينص عليه رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فهو محمول على عادات الناس) في الأسواق (لأنهادلالة) على الجواز فيما وقعت عليه ،،،(وعن أبي يوسف - رحمه الله - أنه يعتبر العرف على خلاف المنصوص عليه أيضا لأن النص على ذلك) الكيل في الشيء أو الوزن فيه ما كان في ذاك الوقت إلا لأن العادة إذ ذاك بذلك (وقد تبدلت) فتبدل الحكم.
و نقل ابن عابدين كلام الفتح بلفظه و أعقبه قائلاً(5/172):
وحاصله توجيه قول أبي يوسف أن المعتبر العرف الطارئ بأنه لا يخالف النص بل يوافقه، لأن النص على كيلية الأربعة، ووزنية الذهب والفضة مبني على ما كان في زمنه - صلى الله عليه وسلم - من كون العرف كذلك حتى لو كان العرف إذ ذاك بالعكس لورود النص موافقا له ولو تغير العرف في حياته - صلى الله عليه وسلم - لنص على تغير الحكم،وملخصه: أن النص معلول بالعرف فيكون المعتبر هو العرف في أي زمن كان ولا يخفى أن هذا فيه تقوية لقول أبي يوسف فافهم.
المبسوط للسرخسي(12 / 247)
الأصل أن ماعرف كونه مكيلاعلى عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو مكيل أبدا وإن اعتاد الناس بيعه وزنا وما عرف كونه موزونا في ذلك الوقت فهو موزون أبدا وما لم يعلم كيف كان يعتبر فيه عرف الناس في كل موضع إن تعارفوا فيه الكيل والوزن جميعا فهو مكيل وموزون .وعن أبي يوسف: أن المعتبر في جميع الأشياء العرف لأنه إنما كان مكيلا في ذلك الوقت أو موزونا في ذلك الوقت باعتبار العرف لا بنص فيه من رسول الله صلى الله عليه وسلم .
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
7 /8/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


