03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کم عمر بچیوں اوربیوی کو تنہا چھوڑکر سالانہ چلہ پر جانا
89915نان نفقہ کے مسائلنان نفقہ کے متفرق مسائل

سوال

محترم مفتی صاحب!امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ گزارش یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق، آپ حضرات کی قربانیوں اور دعاؤں سے میں سن 2004ء سے تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگاتا آ رہا ہوں۔ سن 2011ء میں میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا، اس وقت گھر میں میری والدہ اور بہنیں تھیں، اور گھر کا واحد مرد میں ہی تھا۔ اس کے باوجود اللہ کی توفیق سے میں ہر سال سالانہ چلہ لگاتا رہا۔

کچھ عرصے بعد میری بہنوں کی شادیاں ہو گئیں اور گھر میں صرف میری والدہ، اہلیہ اور میری دو بیٹیاں رہ گئیں، تب بھی اللہ کے فضل سے وقت لگتا رہا۔ پھر سن 2024ء میں میری والدہ کا بھی انتقال ہو گیا، اب گھر میں صرف میری اہلیہ اور دو بیٹیاں ہیں۔

میری ایک بیٹی کی عمر اس وقت 12 سال ہے اور دوسری کی عمر 11 سال ہے۔ سن 2024ء سے اب تک (جنوری 2026ء تک) میں چلہ پر نہیں جا سکا، اس کی وجہ یہ ہے کہ گھر میں میرے سوا کوئی اور مرد موجود نہیں، نہ کوئی بھائی یا قریبی مرد رشتہ دار ہے جو گھر کی نگرانی کر سکے۔

اب میرا شرعی سوال یہ ہے کہ:

کیا ایسی صورتِ حال میں میرے لیے یہ جائز اور درست ہے کہ میں اپنی اہلیہ اور کم عمر بیٹیوں کو گھر پر چھوڑ کر اکیلا تبلیغی چلہ پر چلا جاؤں؟ یا شریعت کی رو سے اس وقت میرے لیے گھر پر رہ کر اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کی ذمہ داری نبھانا زیادہ ضروری ہے؟

براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرما دیں کہ اس معاملے میں میرے لیے کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اس میں کوئی شک نہیں کہ دعوت ِتبلیغ دین کا ایک اہم شعبہ اور بڑی عبادت ہے، لیکن اصل عبادت وہ ہے جو اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق ہواورجس وقت اللہ کی جو منشااور چاہت ہو اس کو مدِ نظررکھتے ہوئے کی جائے۔مذکورہ صورت حال میں آپ پر بیوی بچوں کی کفالت اور دیکھ بھال زیادہ ضروری ہےاور یہی آپ کے لیےاس وقت ایک بڑی عبادت ہے ،کیونکہ  بیوی بچوں کی دیکھ بھال اور ان کا نان نفقہ آپ  پر واجب ہے۔ لہذا  جب تک آپ کی اولاد بڑی نہیں ہوجاتی یا ان کی دیکھ بھال کا کوئی دوسرا انتظام نہیں ہو جاتا اس وقت تک آپ مقامی اعمال میں جڑے رہیں  ،جیسے  مسجد کے پانچ اعمال، ہفتہ وار گشت ، بیرونی گشت اور شب جمعہ  اور جب موقع ملے تو  سہ روزہ وغیرہ کے لیے  بھی قریب جاسکتے ہیں،لیکن جوان بچیوں کواکیلےچھوڑ کرکسی لمبے سفر پر جانامناسب  نہیں۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق(3/64):

قال رحمه الله :(ولقريب محرم فقير عاجز عن الكسب بقدر الإرث لو موسرا) يعني تجب النفقة لكل ذي رحم محرم إذا كان فقيرا عاجزا عن الكسب لصغره أو لأنوثته أو لعمى أو لزمانة، وكان هو موسرا لتحقق العجز بهذه الأعذار، والقدرة عليه باليسار، ويجب ذلك بقدر الإرث لقوله تعالى {وعلى الوارث مثل ذلك} [البقرة: 233] فجعل العلة هي الإرث فيتقدر الوجوب بقدر العلة.

فتح القدير(4/310):

الأول :أن يكون الأب غنيا والأولاد كبارا، فإما إناث أو ذكور، فالإناث عليه نفقتهن إلى أن يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، وليس له أن يؤاجرهن في عمل ولا خدمة وإن كان لهن قدرة...........الثاني :أن يكون الأب غنيا وهم صغار، فإما أن يكون لهم مال أو لا، فإن لم يكن فعليه نفقتهم إلى أن يبلغ الذكر حد الكسب وإن لم يبلغ الحلم، فإذا كان هذا كان للأب أن يؤاجره وينفق عليه من أجرته وليس له في الأنثى ذلك.

محمدوجیہ الدین

دارالافتاءجامعہ الرشیدکراچی

07/شعبان المعظم /1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد وجیہ الدین بن نثار احمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب