| 89966 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
سوال یہ ہے کہ کیا گاہک سے ملاقات کروانے کے پیسے لیے جاسکتے ہیں ؟ مثلا ہم Client یعنی Builder کو کہتے ہیں کہ ہم آپ کی ملاقات گاہک سے (یعنی ایسے لوگ جن کو گھر پر کام کروانا ہے) ان سے کروا سکتے ہیں اور فی ملاقات(appointment) آپ سے پیسے لیں گے۔
اس بارے میں مندرجہ ذیل سوالات کے جواب درکار ہیں :
1۔ ہم نے خود Builder سے فی ملاقات مثلاً 200$ لیے اور اس کا پانچ ملاقات کا آرڈر لے لیا یعنی 1000$ وصول کر لیے۔ اب ہم نے خود کالز کر کے یا کسی دوسرے طریقے سے ایسے لوگوں کو ڈھونڈا جنہیں گھر پر کام کروانا ہے اور ان میں سے پانچ کی ملاقات Builder سے کروادی۔ اب چاہے وہ ان سے کام کر وائیں یا نہ کر وائیں ، ہمارا کام ملاقات کروانا تھا جس کے ہم پیسے لے چکے ہیں۔ کیا یہ درست ہے ؟
2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ فی ملاقات کروانا مثلا 50$ ہے، اس حساب سے ہم نے آرڈر لے لیا اور مزید یہ طے کرنا کہ اگر گاہک کام بھی کرواتا ہے تو اس میں سے بھی کل قیمت میں مثلاً 5 فیصد کمیشن بھی طے کر نا، کیا یہ درست ہے ؟
3 ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ، پہلی یادوسری صورت کی طرح Builder سے آرڈر لے لینا، اور پھر خود گاہک ڈھونڈنے کی بجائے کسی اور کمپنی یا شخص کو کم پیسوں میں آرڈر کر دینا جو گاہک ڈھونڈیں گے ، اور ان سے گاہک کی معلومات لے کر آگے Builderکو دے دینا، کیا یہ درست ہے ؟
نوٹ : Builder سے یہ طے ہوتا ہے کہ ہم آپ کی ملاقات ایسے لوگوں سے کروائیں گے جنہیں گھر پر کام کروانا ہے۔اگر ہم کسی کا رابطہ کروائیں اور وہ ملاقات پر نہ آئے تو اس کو متبادل ملاقات فراہم کی جاتی ہے۔اس کام کو setting appointment کہتے ہیں، یعنی گاہک کے ساتھ appointment کروانا۔ اس کام کو پاکستان میں رہتے ہوئے امریکہ کے اندر کیا جاتا ہے اور باقی لوگ بھی کرتے ہیں۔اگر ہم عام ایجنٹ والا کام کریں ( یعنی اگر گاہک کام کروائے تو ہی پیسے لینا) تو ممکنہ طور پر Builder ، گاہک کو serious نہیں لے گا اور وہ اپنی قیمت زیادہ بتا دیں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
درج بالا سوالات کے جوابات دینے سے پہلے چند باتیں بطور تمہید ذکر کرنا ضروری ہیں:
اجرت کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی معلوم منفعت کے مقابل ہو، لہذا جو عرف میں منفعت سمجھی جاتی ہےتو اس کی اجرت لینا جائزہے،چونکہ آج کل کسٹمر تلاش کرنے میں بہت وقت صرف ہوتا ہے اوراس کام میں بہت محنت و مشقت اٹھانی پڑتی ہے،لہذا اس کا م کی اجرت لینا جائز ہے ۔
دلال یا ایجنٹ کی اجرت حاجت و عرف کی وجہ سے جائز ہے بشرطیکہ اجرت معلوم ہو،چاہے مخصوص رقم طے کردی جائے یا فیصدی اعتبار سے طے کردی جائے۔
- اس صورت میں آپ کے لیے محض ملاقات کرانے کی یہ اجرت لینا جائز ہے۔
- اس صورت میں بھی محض ملاقات کرانے کی اجرت لینا جائزہے اور اسی طرح جو گاہک ان بلڈرزBuilders پر آپ کی توسط سے کام کروا رہا ہو تو اس کی آپ الگ سے بھی اجرت لے سکتے ہے بشرطیکہ وہ پہلے سے مقرر اور معلوم ہو۔
- جب آپ کے لیے خود کسٹمرزتلاش کرکے ان کی کمپنی سے ملاقات کروانے پر اجرت لینا جائز ہے تو دوسرے کے ذریعے سے کم قیمت میں گاہک تلاش کرکےملاقات کروانے کی بھی اجرت لینا جائز ہے۔
حوالہ جات
رد المحتار ط : الحلبي (6/ 47):
قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز؛ لماكان للناس به حاجة، ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل .
المحيط البرهاني(7/ 485):
وفي نوادر ابن سماعة عن أبي يوسف: رجل ضل شيئا، فقال: من دلني عليه فله درهم فدله إنسان فلا شيء له؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، ولو قال لإنسان بعينه: إن دللتني عليه فلك درهم، فإن دله من غير شيء معه فكذلك الجواب لا يستحق به الأجر وإن مشى معه ودله فله أجر مثله، لأن هذا عمل يقابل الأجر عرفا وعادة إلا أنه غير مقدر ففسد العقد ووجب به أجر المثل.
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (3/ 128):
قوله: من دلني على كذا فله كذا إلخ. في الولوالجية: رجل ضل له شيء فقال من دلني عليه فله كذا. فهذا على وجهين: إن قال ذلك على سبيل العموم بأن قال من دلني فالإجارة باطلة لأن المستأجر له ليس بمعلوم والدلالة والإشارة ليس بعمل يستحق به الأجر فلا يجب وإن قال على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه إن دللتني عليه فلك كذا إن مشى معه ودله يجب أجر المثل في المشي لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل وإن دله من غير مشي فهو والأول سواء (انتهى) .
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
21/شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


