03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل فون پر طلاق دینے کا حکم
89963طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سوال یہ ہے کہ میری بہن یہاں سے کسی دوسرے گاؤں چچا کے گھر گئی ہوئی تھی بہنوئی کراچی میں تھا تو  بہنوئی  نے کل اپنے گھر میں کسی وجہ سے اپنی والدہ سے لڑائی کی تھی تو اس لڑائی کی وجہ سے بہنوئی غصے میں تھا اس نے اپنی بیوی کو کال کر دی کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں لیکن  طلاق دینے والے کے دماغ میں تھا کہ موبائل پر طلاق نہیں ہوتی جب لڑکی کے بھائیوں کو معلوم ہوا تو وہ لڑکی جن کے گھر پر تھی انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اس کے شوہر نے طلاق دے دی ہے جو کہ ہم نے سنا ہے شوہر سے جب پوچھا گیا کہ تم نے طلاق دی تو وہ کہنے لگا کہ دو طلاقیں دی ہیں بعد میں شوہر  نے خود تصدیق کی کہ میں نے تین طلاقیں ہی دی ہیں لیکن  اس کی نیت میں یہ تھا کہ موبائل پر طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی اس مسئلے پر مفتیان کیا فرماتے ہیں کہ طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 موبائل فون پر طلاق دینے سے بھی شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا شوہر نے اگر موبائل فون پر تین طلاقیں دے دی ہیں تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو گئی ہے۔ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے.

حوالہ جات

 حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 235):

(‌ويقع ‌طلاق ‌كل ‌زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح..

النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 327):

فالمفصح على سبعة اوجه

احدها ان يقول لها انت طالق او انت طالق واحدة او انت طالق اثنتين او انت طالق ثلاثا او أنت الطلاق او طلقتك او يا مطلقة.

‌فهذه ‌الالفاظ ‌لا ‌تحتاج الى النية والنية فيها لا تعمل شيئا»

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (4/ 177):

‌وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 236):

‌ولو ‌أقر ‌بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.

عادل ارشاد

دار الافتاء    جامعۃ الرشیدکراچی

20/شعبان المعظم /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عادل ولد ارشاد علی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب