03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین کاٹ کر ایک طلاق لکھنے،دستخط کرنے اور عدّت میں رجوع کے باوجود عورت کے دوسرے نکاح کا شرعی حکم
89153طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

محترم مفتی صاحب! میری ایک نہایت اہم شرعی رہنمائی درکار ہے، براہِ کرم پوری صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رہنمائی فرمائیں۔ میں اُن فتاویٰ کو بھی ساتھ منسلک کر رہا ہوں جو ماہ نور کے پہلے شوہر عبد الرحمن نے دارالافتاء سے حاصل کیے تھے، تاکہ اُنہیں دیکھ کر موجودہ مسئلے کا صحیح شرعی حکم واضح ہو سکے۔ ماہ نور کے پہلے شوہر کا کہنا ہے کہ اس نے صرف ایک طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا، تین طلاقیں دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ طلاق کے کاغذات وکیل اور گھر والوں نے بنوائے تھے؛ اس نے وہ بغیر پڑھے صرف دستخط کیے۔ اگرچہ ان میں تین طلاقیں لکھی تھیں مگر اس کی نیت ایک طلاق تھی۔ اس نے شروع میں تین طلاقوں کو کاٹ کر ایک طلاق لکھ کر سائن کیے، اور پھر جب اس نے مزید تحریر پڑھی تو پھر اس میں تین طلاقوں کا ذکر تھا لیکن اس نے اسے بھی کاٹ دیا اور ایک طلاق لکھ دیا۔ مزید یہ کہ عدت کے دوران اس نے دو گواہوں کی موجودگی میں رجوع کیا اور کئی مرتبہ ماہ نور کے گھر جا کر رجوع کی کوشش کی، مگر گھر والوں نے اسے اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ سوال یہ ہے کہ

١۔ مسئولہ صورت میں ایک طلاق واقع ہوئی یا تین؟

۲۔ کیا رجوع کے باعث ماہ نور اب بھی پہلے شوہر کے نکاح میں ہے؟

۳۔ میرا نکاح ماہ نور سے اس یقین پر ہوا تھا کہ وہ پہلے شوہر سے جدا ہوچکی ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پہلا شوہر رجوع کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے مطابق ماہ نور عدت میں تھی، تو کیا میرا نکاح صحیح ہے یا باطل؟

۴۔اگر میرا نکاح باطل ہو تو کیا یہ خودبخود باطل شمار ہوگا یا مجھے علیحدگی کے لیے طلاق دینی ہوگی؟

۵۔ میرا حقِ مہریہ پچاس ہزار روپے تھا؛ اگر نکاح باطل ہو تو اس کے بارے میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟

٦۔اگر پہلے شوہر کا رجوع درست ثابت ہو جائے اور میرا نکاح باطل ہو تو کیا بعد میں صحیح شرعی طریقے سے نیا نکاح کیا جا سکتا ہے، اور اس کے لیے کون سے شرعی اصول پورے کرنا ضروری ہوں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال میں بیان کردہ صورتِ حال کے مطابق جواب دیتا ہے۔حقیقتِ حال اور بیان کی سچائی کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے۔اگر کوئی غلط بیانی سے فتویٰ حاصل کرے، تو اس کا گناہ

اسی کے ذمہ ہوگا۔

اس تمہید کے بعدآپ کے سوالوں کے جوابات  ترتیب واردرج ذیل ہیں:

١۔ اگر شوہرِ اوّل عبدالرحمن نے دستخط کرنے سے پہلےطلاق نامے میں موجود “تین طلاق” کو کاٹ کر “ایک طلاق” لکھ دیا تھا، تو ایسی صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہوئی تھی۔

لیکن اگر دستخط کے بعد اس نے ”تین طلاق“ کو کاٹ کر ”ایک طلاق“ لکھی تھی ، تو اس تبدیلی کا شرعاً کوئی اثر نہیں ہوا، اور تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں۔

۲۔ اگر ایک ہی طلاق واقع ہوئی تھی اور عبدالرحمن نے عدت کے اندر واقعةً رجوع کیا تھا، تو رجوع صحیح ہے، اور ماہ نور اب بھی پہلے شوہر کے نکاح میں ہی ہے۔

اوراگر تین طلاقیں واقع ہو چکی تھیں، تو عدت کے اندرکیا رجوع درست نہیں، اور ماہ نور پہلے شوہر سے مکمل طور پر جدا ہو چکی تھی۔

۳۔  اگر پہلے شوہر کی جانب سے صرف ایک طلاق ہوئی تھی اور پھر عدت کے اندر رجوع بھی ہو گیا تھا، تو آپ کا نکاح سرے سے صحیح ہوا ہی نہیں، لہٰذا باطل ہے۔

 اور اگر پہلے شوہر سے واقعی تین طلاقیں ہو گئی تھیں، تو عدت کے بعد آپ کا نکاح صحیح اور معتبر ہے۔

۴۔باطل نکاح اصل میں وجود ہی نہیں رکھتا، اس لیے اس کو ختم کرنے کے لیے طلاق دینا ضروری نہیں ۔البتہ احتیاطاً فسخِ نکاح کا اعلان یا علیحدگی کا واضح اظہار کیا جا سکتا ہے، تاکہ کوئی نزاع باقی نہ رہے۔

۵۔ اگر آپ کا نکاح باطل ہوتو اگرشروع سے آپ کواس کا علم تھا تو مہر واجب نہیں ہوگااوراگرشروع سے علم نہیں  تھاتو چونکہ بعض فقہاء کرام نے اس کو اس صورت میں فاسد کہاہے اس لیے احتیاط اس میں ہے کہ مہر دیاجائے اوراگرپہلے ہی دیدیا ہو تو واپس نہ لیاجائے۔

۶۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ پہلے شوہر نے صرف ایک طلاق دی تھی اور عدت کے دوران رجوع بھی کر لیا تھا تو آپ کا نکاح باطل ہے۔

 اس صورت میں جب تک ماہ نور پہلے شوہر سے شرعی طور پر جدا نہیں ہوجاتی (یعنی اسے شوہر طلاق دے یا خُلع ہو)اوراس کے بعد عدت نہ گزرے آپ اس سے نکاح نہیں کر سکتے۔

اور اگر پہلے شوہر سے صحیح طریقے سے جدائی ہو جائے،عدت گزرجائے تو بعد میں نئے سرے سے شرعی طریقے پرآپ اس سےنکاح کرسکتے ہیں۔

ضروری وضاحت:

معاملہ چونکہ حلال اور حرام اور آخرت میں جواب دہی کا ہے،لہٰذا فریقین پر لازم ہے کہ اپنی قبر و آخرت کو سامنے رکھ کر وہی فیصلہ کریں جو حقیقت کے مطابق ہوز

حوالہ جات

فی المحيط البرهاني:

وإن لم تقم عليه بينة بالكتاب ولم يقر أنه كتابه ولكنه وصف الأمر على وجهه، فإنه لا يلزمه الطلاق في القضاء ولا فيما بينه وبين الله تعالى، وكذلك كل كتاب لا يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه.(المحيط البرهاني،باب الخلع،ج3ص429):

قال اللہ تعالیٰ:

{الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229]

فی الھدایة:

واذا طلق الرجل امراتہ تطلیقة رجعیة او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا.(ج:2، ص:394، کتاب الطلاق)

وفی الشامیة:

"أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا".(کتاب النکاح، باب العدّۃ، مطلب عدة المنكوحة فاسدا و الموطوءة بشبهة، ج:3، ص:516، ط: ایچ ایم سعید)

ردالمحتار: (131/3، ط: سعید(

قلت: لكن سيذكر الشارح في آخر فصل في ثبوت النسب عن مجمع الفتاوى: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل اه. وهذا صريح فيقدم على المفهوم فافهم، ومقتضاه الفرق بين الفاسد والباطل في النكاح، لكن في الفتح قبيل التكلم على نكاح المتعة. أنه لا فرق بينهما في النكاح، بخلاف البيع، نعم في البزازية حكاية قولين في أن نكاح المحارم باطل أو فاسد. والظاهر أن المراد بالباطل ما وجوده كعدمه، ولذا لا يثبت النسب ولا العدة في نكاح المحارم أيضا كما يعلم مما سيأتي في الحدود. وفسر القهستاني هنا الفاسد بالباطل، ومثله بنكاح المحارم وبإكراه من جهتها أو بغير شهود إلخ وتقييده الإكراه بكونه من جهتها قدمنا الكلام عليه أول النكاح قبيل قوله وشرط حضور شاهدين، وسيأتي في باب العدة أنه لا عدة في نكاح باطل. وذكر في البحر هناك عن المجتبى أن كل نكاح اختلف العلماء في جوازه كالنكاح بلا شهود فالدخول فيه موجب للعدة. أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اه.والحاصل أنه لا فرق بينهما في غير العدة، أما فيها فالفرق ثابت.
کذا فی قاموس الفقه: (238/5، ط: زمزم پبلشرز(

وفی الشامیة

ویجب مہر المثل في نکاح فاسد،وہوالذي فقد شرطاً من شرائط الصحۃ کشہود (در مختار) وتحتہ في الشامیۃ: ومثلہ تزوج الأختین معاً، ونکاح الأخت في عدۃ الأخت، ونکاح المعتدۃ، والخامسۃ في عدۃ الرابعۃ،والأمۃ علی الحرۃ۔ (شامي، زکریا۴/۲۷۴، کراچي۳/۱۳۱)(۲)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ(۸/۱۲۳)

ویتفقون کذلک علی وجوب العدۃ، وثبوت النسب في النکاح المجمع علی فسادہ بالوطء کنکاح المعتدۃ، وزوجۃ الغیر والمحارم إذاکانت ہناک شبہۃ تسقط الحد، بأن کان لا یعلم بالحرمۃ۔

وفي إمداد الفتاوى الجديد، الجديد المطوّل، حاشية شبير أحمد القاسمي (5/56):

إنّ النكاح الذي يُعقد في غير محلِّه الشرعي بسبب الجهل وعدم المعرفة يكون نكاحًا فاسدًا، وأما النكاح الذي يُعقد في غير محلِّه عن قصدٍ وعلمٍ فهو نكاح باطِل.ويُجرى في النكاح الفاسد أحكامُ النكاح؛ مثل: ثبوت المهر، وثبوت النسب، ووجوب العدّة.أما النكاح الباطل فلا تَجري فيه أحكام النكاح، فلا يثبت به مهرٌ، ولا عدّة، ولا نسب.

وفی رد المحتار:

"أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته ... فلم ينعقد أصلا".(کتاب النکاح، باب العدّۃ، مطلب عدة المنكوحة فاسدا و الموطوءة بشبهة، ج:3، ص:516، ط: ایچ ایم سعید)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 8/6/1447ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب