| 87791 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
عورت کو بچے کی پیدائش کے دو ماہ بعد حمل ٹھہرگیا، جبکہ عورت کی صحت کمزور ہے، بچہ دودھ بھی پی رہا ہے، ایسی صورت میں پہلا سوال یہ ہے کہ شرعاً کتنے دنوں تک حمل ساقط کیا جا سکتا ہے؟
دوسرا سوال یہ کہ حمل ساقط ہونے کی صورت میں عدت کی تکمیل کب ہو گی؟
تیسرا سوال یہ کہ اس کے بعد آنے والا خون حیض شمار ہو گا یا نفاس؟
چوتھا سوال یہ کہ کتنے ماہ کے اسقاطِ حمل سے غرہ واجب ہوتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوالات کے جوابات سے پہلے درج ذیل تمہید جاننا ضروری ہے:
بعض اسپیشلسٹ ڈاکٹر حضرات اور بعض ویب سائٹس پر بچے کی تخلیق سے متعلق دی گئی معلومات کا حاصل یہ ہے کہ بچے کی تخلیق مختلف مراحل میں مکمل ہوتی ہے، جن کی تفصیلدرج ذیل رپورٹس میں مذکور ہے، ان میں ہر ہفتے بننے والے اعضاء کی تفصیل ذکر کی گئی ہے:
مذکورہ بالا رپورٹس کا حاصل درج ذیل نکات کی صورت میں نکلتا ہے:
-
پہلے تین ہفتے میں مرد وعورت کے سپرم آپس میں مل کر حمل قرار پکڑتا ہے، اس مرحلے میں اعضاء کی تخلیق شروع نہیں ہوتی۔
-
چوتھے ہفتے میں بچہ ایک تھیلی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
-
پانچویں ہفتے میں دل اور اعصابی نظام بنناشروع ہوتا ہے۔
-
چھٹے ہفتے میں دل کا کافی سارا حصہ بن جاتا ہے ، اگرچہ یہ لوتھڑے کی صورت میں ظاہرہوتا ہے۔
-
ساتویں ہفتے میں دماغ کا آگے والا حصہ اور سَر تیزی سے بننے لگتا ہے۔
-
آٹھویں ہفتے میں ٹانگیں اور بازو کافی حد تک بن جاتے ہیں، نیز چہرے کے اعضاء بھی کسی حد تک نمایاں ہو جاتے ہیں۔
-
نویں ہفتے میں آنکھیں، زبان اور منہ بن جاتا ہے۔
-
دسویں ہفتے میں دل مکمل طور پر بن جاتا ہے اور دل کی دھڑکن فی منٹ ایک سو اسی(180)مرتبہ ہوتی ہے۔
-
گیارہویں ہفتے میں چہرے کی ہڈیاں اور ناخن وغیرہ بن جاتے ہیں۔
-
بارہویں ہفتے یعنی تین ماہ مکمل ہونے پر بچے کے اعضاء مکمل ہو جاتے ہیں اور بچے میں کچھ ارتعاشی حرکت (جو ماں کے دل کی حرکت کی وجہ سے محسوس ہوتی ہے)بھی پیدا ہو جاتی ہے، اس کے بعد بچے کی صرف گروتھ (Growth) ہوتی ہے۔
مذکورہ بالا نکات کا حاصل یہ ہے کہ آٹھ ہفتے مکمل ہونے پر بچے کے بعض اعضاء جیسے بازو، ٹانگیں اور چہرہ کے بعض اعضاء واضح ہو جاتے ہیں اورڈاکٹرحضرات کے بقول اسقاط حمل کی صورت میں ان اعضاء کو بغیر کسی آلہ کے ننگی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تمہید کے بعد بالترتیب سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں:
-
حمل ساقط کرنے کے حوالے سے فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات سے تین صورتیں معلوم ہوتی ہیں اور تینوں کا حکم علیحدہ علیحدہ ہے:
پہلی صورت:
پہلی صورت یہ کہ بچے کے اعضاء بالکل نہ بنے ہوں، جیسے حمل (Pregnancy)کے بعد پہلے چھ ہفتے (42دن)مکمل ہونے سے پہلےکوئی عضو وجود میں نہیں آتا اوربیالیس (42) سے انچاس (49) دن یعنی
سات ہفتے پورے ہونےتک بچے کے اعضاء ظاہر ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں صورتِ حال واضح نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ اس دوران اسقاط حمل کی صورت میں بچے کے اعضاء کو آنکھ سے پہچاننا مشکل ہوتا ہے، (چنانچہ سات ہفتےكے جنين كی تصوير ساتھ منسلك ہے، اس کو ملاحظہ فرمائیں) اس لیے سات ہفتے یعنی انچاس(49) دن مکمل ہونے سے پہلے حمل کو ساقط کرنے کا حکم یہ ہے کہ کسی عذر مثلاً: عورت کا کمزور ہونا یا پہلےبچے کا کسی اور عورت کا دودھ نہ پینا وغیرہ ، کیونکہ حمل کی وجہ سے ماں کا دودھ فاسد ہو جاتا ہے، جس سے بچے کی صحت پر منفی اثر پڑتا ہے، جبکہ دو سال تک دودھ پلانا بچے کا حق ہے، لہذا ایسی صورت میں حمل ساقط کرنا جائز ہے، اس کے علاوہ بغیر کسی عذر کے حمل ساقط کرنا بھی شرعا منع ہے۔اسی طرح بھوک، فاقہ اور معاشی مسائل کے خوف سے ساقط کرنا جائز نہیں، کیونکہ تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والے ہیں۔ لہذا اس نظریہ سے حمل ساقط کرنا شرعاً ناجائز اور گناہ ہے، اسی وجہ سے اہلِ عرب کی قرآن کریم میں مذمت بیان کی گئی جو کہ زمانہٴ جاہلیت میں بھوک اور افلاس کے خوف سے بچیوں کو زندہ درگور کرتے تھے۔
دوسری صورت:
اعضاء ظاہر ہونے لگ جائیں اور اسقاط کی صورت میں ان کوآنکھ سے دیکھا جا سکتا ہو، پیچھے دی گئی معلومات کے مطابق عام طور پرآٹھویں ہفتے میں جنین کے بعض اعضاء ظاہر ہونے لگ جاتے ہیں،(چنانچہ آٹھ ہفتےكے جنين كی تصوير ساتھ منسلك ہے، اس کو ملاحظہ فرمائیں) یہی وه مرحلہ ہے جس کو فقہائے کرام رحمہم اللہ استِبانة خلق (اعضاء کا ظاہر ہونا) سے تعبیر کرتے ہیں، اس صورت کا حکم یہ ہے کہ معمولی عذر کی وجہ سے اس کو ساقط کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کوئی عذرِ شدید پیش آجائے، مثلاً: عورت کے آپریشن کو زیادہ عرصہ نہ گزرا ہو اور دوسرے بچے کی ولادت بھی آپریشن کے ذریعہ ہی متوقع ہو اور ماہر ڈاکٹر حضرات اتنی جلدی آپریشن سے منع کرتے ہوں تو ایسی صورت میں چار ماہ مکمل ہونے سے پہلے حمل کو ساقط کرنے کی گنجائش ہے اور یہ مرحلہ آٹھ ہفتے مکمل ہونے کے بعد سے شروع ہرکر چار ماہ یعنی ایک سو بیس دن پورے ہونے تک جاری رہتا ہے، اور اگر آٹھواں ہفتہ شروع ہوچکاہوتو چونکہ اس ہفتے میں اعضاء کے ظاہر ہونے کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے، اس لیے اگر الٹراساؤنڈ(کیونکہ ڈاکٹر حضرات کے بقول جو عضو الٹراساؤنڈ میں واضح ہو اس کو اسقاط کے بعد آنکھ سے بھی پہچانا جا سکتا ہے) میں ایسے جنین کے اعضاء پہچانے جا سکتے ہوں تو اس کا حکم بھی یہی ہو گا کہ بغیر عذر شدید کے اس کا اسقاط جائز نہیں۔
تیسری صورت:
تیسری صورت یہ کہ اعضاء مکمل ہوجانے کے بعد بچے میں روح بھی پھونک دی گئی ہو اور حدیثِ پاک میں تصریح کے مطابق چار ماہ (120دن) مکمل ہونے پر بچے کے جسم ميں روح پھونكی جاتی ہے، ایسی صورت میں بچہ ایک کامل انسان کی طرح ہوتا ہے، جس کو کسی بھی حالت میں ساقط کرنے کی قطعاً اجازت نہیں، لہذا روح پھونک دیے جانے کے بعد اگر کسی نے بچے کو ضائع کردیا تو ایسا مرد اور عورت گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں گے، کیونکہ اس صورت میں بچہ ضائع کرنا ایک کامل انسان کوقتل کے حکم میں ہے ۔
البتہ اگر کوئی ایسی صورت پیش آجائے جس میں ماہر اور دیندار ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق خدا نخواستہ ماں کی جان ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہو، جس کی میڈیکل کے آلات سے بھی تصدیق ہوتی ہو تو ایسی صورت کی تفصیل ذکر کر کے دارالافتاء سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
سنن أبي داود (2/ 251، رقم الحديث: 2170) المكتبة العصرية، صيدا – بيروت:
حدثنا إسحاق بن إسماعيل الطالقاني، حدثنا سفيان، عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد، عن قزعة، عن أبي سعيد، ذكر ذلك عند النبي صلى الله عليه وسلم يعني العزل قال: «فلم يفعل أحدكم؟، ولم يقل فلا يفعل أحدكم، فإنه ليست من نفس مخلوقة إلا الله خالقها»
صحيح الإمام البخاري (2/ 404) مكتَبة المَعارف للنَّشْر والتوزيع، الرياض:
عن عبد الله: حدثنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وهو الصادق المصدوق"إن أحدكم يجمع [خلقه] في بطن أمه أربعين يوما [وأربعين ليلة]، ثم يكون علقة مثل ذلك، ثم يكون مضغة مثل ذلك، ثم يبعث الله إليه ملكا، [فيؤمر] بأربع كلمات، [ويقال له: اكتب عمله، ورزقه، وأجله، وشقي أو سعيد]، فيكتب عمله، وأجله، ورزقه، وشقي أو سعيد، ثم ينفخ فيه الروح.
الفتاوى الهندية (5/ 356) دار الفكر، بیروت:
العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز وأما في زماننا يجوز على كل حال وعليه الفتوى كذا في جواهر الأخلاطي. وفي اليتيمة سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور فقال أما في الحرة فلا يجوز قولا واحدا وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه والصحيح هو المنع كذا في التتارخانية.
ولا يجوز للمرضعة دفع لبنها للتداوي إن أضر بالصبي كذا في القنية. امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 429) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية (قوله حيث لا يتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 590) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(وما استبان بعض خلقه) كظفر وشعر (كتام فيما ذكر) من الأحكام وعدة ونفاس كما مر في باب (وضمن الغرة عاقلة امرأة) حرة في سنة واحدة وإن لم تكن لها عاقلة ففي مالها في سنة أيضا صدر الشريعة ولا تأثم ما لم يستبن بعض خلقه ومر في الحظر نظما.
فتاوى قاضيخان (3/ 251)
و إذا أسقطت الولد بالعلاج قالوا إن لم يستبن شيء من خلقه لا تأثم قال رضي الله عنه و لا أقول به فإن المحرم إذا كسر بيض الصيد يكون ضامنا لأنه أصل الصيد فلما كان مؤاخذا بالجزاء ثمة فلا أقل من أن يلحقها إثم إذا أسقطت بغير عذر إلا أنها لا تأثم إثم القتل * و إن أسقطت بعد ما استبان خلقه وجبت الغرة.
تحفة الفقهاء (1/ 248) دار الكتب العلمية، بيروت:
وعن محمد في السقط الذي استبان خلقه إنه يغسل ويكفن ويحنّط ولا يصلى عليه.
تحفة الفقهاء (2/ 273) دار الكتب العلمية، بيروت:
الولد سواء كان ميتا أو حيا أو سقطا قد استبان خلقه أو بعض خلقه إذا أقر به فهو بمنزلة الولد الكامل الحي في صيرورة الجارية أم ولد له لأن الولد الميت يسمى ولدا له وتعلق به أحكام كثيرة وإن لم يستبن خلقه وادعاه المولى لا تكون أم ولد له لأن هذا لا يسمى ولدا ويجوز أن يكون لحما أو دما.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 325) الناشر: دار الكتب العلمية:
الجنين إن كان حيا فقد فوت الضارب حياته، وتفويت الحياة قتل، وإن لم يكن حيا فقد منع من حدوث الحياة فيه فيضمن كالمغرور لما منع من حدوث الرق في الولد وجب الضمان عليه، وسواء استبان خلقه أو بعض خلقه لأنه - عليه الصلاة والسلام - قضى بالغرة ولم يستفسر فدل أن الحكم لا يختلف. وإن لم يستبن شيء من خلقه فلا شيء فيه؛ لأنه ليس بجنين إنما هو مضغة، وسواء كان ذكرا أو أنثى.
صحيح الإمام البخاري (4/ 25، رقم الحديث: 2251) الناشر: مكتَبة المَعارف للنَّشْر والتوزيع، الرياض:
عن أبي هريرة: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قضى في امرأتين من هذيل اقتتلتا، فرمت إحداهما الأخرى بحجر، فأصاب بطنها وهي حامل، فقتلت ولدها الذي في بطنها، فاختصموا إلى النبي - صلى الله عليه وسلم -، فقضى أن دية ما في بطنها غرة عبد أو أمة، فقال ولي المرأة التي غرمت: كيف أغرم يا رسول الله! من لا شرب ولا أكل، ولا نطق ولا استهل، فمثل ذلك بطل، فقال النبي - صلى الله عليه وسلم -:"إنما هذا من إخوان الكهان"، [ثم إن المرأة التي قضى عليها بالغرة توفيت، فقضى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أن ميراثها لبنيها وزوجها، وأن العقل (وفي رواية: دية المرأة) على عصبتها (وفي الرواية الأخرى: على عاقلتها)].
فتاوى الشیخ ابن باز: (رقم الفتوى: 9735):
أما بعد: فإسقاط الجنين فيه تفصيل: فإذا كان في الأربعين الأولى فالأمر فيه أوسع، ولا ينبغي إسقاطه، لكن إذا اقتضت المصلحة الشرعية بإسقاطه؛ لمضرة على الأم أو لهذا السبب الذي قرر الأطباء أنه قد يتشوه بأسباب فعلتها الأم فلا حرج في ذلك، أما إذا كان في الطور الثاني أوفي الطور الثالث فلا يجوز إسقاطه، وقد يخطئ الظن ولا يقع ما ظنه الطبيب ولا يحصل التشوه، والأصل حرمة إسقاط الجنين إلا عن مضرة كبرى يخشى منها موت الأم، وهكذا بعد أن تنفخ فيه الروح من باب أولى يحرم إسقاطه؛ لأنه صار إنسانًا فلا يجوز قتله ولا يحل، لكن لو وجدت حالة يخشى منها موت الأم وقد تحقق الأطباء أن بقاءه يسبب موتها فحياتهامقدمة، فيعمل الأطباء ما يستطيعون من الطرق التي يحصل بها خروجه حياً إذا أمكن ذلك.
فتاوى الشیخ ابن باز: (رقم الفتوي: 18395):
الأفضل عدم التعرض لإسقاطه؛ لأن الله جل وعلا قد يجعل فيه خيرًا كثيرًا؛ ولأن الرسول ﷺ حرض على كثرة النسل، وقال عليه الصلاة والسلام: تزوجوا الولود الودود فإني مكاثر بكم الأمم يوم القيامة، فاحتساب الأجر في تكثير الأولاد أمر مطلوب، لاسيما وليس عندها إلا طفل واحد، وليس عليها مرض، فالأولى بها والأفضل لها عدم التعرض لإسقاطه، فإن أسقطته في الأربعين لمصلحة تراها ووافق زوجها على ذلك فلا حرج، لكن الأفضل والأولى ترك ذلك، لما تقدم من المصلحة العظيمة، وتحقيق ما قاله النبي عليه الصلاة والسلام، لكن ما دام الجنين في الأربعين، لم يتجاوز الأربعين فالأمر فيه أسهل وأوسع، وترك إسقاطه أفضل.
-
دوسرے سوال کا جواب یہ کہ تمہید میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق عام طور پر بچے كی معمول کے مطابق گروتھ(Growth) ہونے کی صورت میں آٹھ ہفتے یعنی چھپن (56) دن مکمل ہونے پر بعض اعضاء واضح ہو جاتے ہیں اور ایسی صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ اگر بچے کے کچھ نہ کچھ اعضاء (اگرچہ ایک انگلی ہی ہو، بشرطیکہ واضح نظر آئے) ظاہر ہونے کے بعد اسقاط کیا جائے تو عورت کی عدت مکمل ہو جائے گی اور اس کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہو گا اور آٹھویں ہفتے کے دوران اسقاط کی صورت میں اعضاء کے ظاہر ہونے پر حکم موقوف ہو گا، البتہ اگر کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے بچے کی صحیح گروتھ(Growth) نہ ہو رہی ہو اور اس کےاعضاء واضح نہ ہوں، بلکہ جنین لوتھڑے کی صورت میں ہوتو ایسی صورت میں اسقاط حمل سے عدت ختم نہیں ہو گی، اسی طرح اگر جنین کی عمر سات ہفتے یا اس سے کم ہو تو بھی عدت کے ختم ہونے کا حکم نہیں لگے گا، بلکہ ایسی صورت میں طلاق یافتہ کے لیے تین حیض اور جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو اس کے لیے چار ماہ دس دن مستقل عدت گزارنا ضروری ہو گا۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 196) دار الكتب العلمية، بيروت:
وشرط انقضاء هذه العدة أن يكون ما وضعت قد استبان خلقه أو بعض خلقه فإن لم يستبن رأسا بأن أسقطت علقة أو مضغة لم تنقض العدة؛ لأنه إذا استبان خلقه أو بعض خلقه فهو ولد فقد وجد وضع الحمل فتنقضي به العدة، وإذا لم يستبن لم يعلم كونه ولدا بل يحتمل أن يكون، ويحتمل أن لا يكون فيقع الشك في وضع الحمل، فلا تنقضي العدة بالشك.
الفتاوى الهندية (1/ 529) دار الفكر، بیروت:
وذكر في الأصل أنها لو ولدت الميت على سريره انقضت به العدة، وشرط انقضاء هذه العدة أن يكون ما وضعت قد استبان خلقه، فإن لم يستبن خلقه رأسا بأن أسقطت علقة أو مضغة لم تنقض العدة كذا في البدائع.
-
اسقاط کے بعد آنے والے خون میں بھی جواب نمبر2میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق ہی حکم ہو گا ، یعنی اگر اعضاء ظاہر ہونے کے بعد اسقاط ہو تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس شمار ہو گا اور اگر اس سے پہلے اسقاط ہوا تو اگر اس سے قبل پندرہ دن کا وقفہ گزر چکا ہو تو یہ خون حیض سمجھا جائے گا، ورنہ استحاضہ یعنی بیماری کا خون شمار ہو گا۔
-
چوتھے سوال کا جواب یہ کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر بچے کے اعضاء ظاہر ہوں چکے ہوں تو بغیر شوہر کی اجازت کے اس کو ساقط کرنے پر عورت کے ذمہ غرہ یعنی دیت کا پانچواں حصہ واجب ہو گا، البتہ اگر شوہر کی اجازت سے ساقط کیا جائے یا اس کے اعضاء نہ بنے ہوں، یعنی اس پر سات ہفتے مکمل نہ ہوئے ہوں تو اس صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق اس کےساقط کرنے پر کچھ بھی واجب نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس کی حیثیت بچے کی نہیں، بلکہ گوشت کے لوتھڑے کی ہو گی، جس کے اسقاط پر شریعت نے کوئی تاوان واجب نہیں کیا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 591) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(أسقطته ميتا) عمدا (بدواء أو فعل) كضربها بطنها (بلا إذن زوجها فإن أذن) أو لم يتعمد (لا) غرة لعدم التعدي.
الاختيار لتعليل المختار (5/ 44) دار الكتب العلمية – بيروت:
-
وإن استبان بعض خلقه ولم يتم ففيه الغرة) لأنا نعلم أنه ولد فكان كالكامل، والنبي - عليه الصلاة والسلام - قضى في الجنين بالغرة.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 140) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
(فإن ألقته حيا فمات فدية) أي تجب دية كاملة؛ لأنه أتلف آدميا خطأ أو شبه عمد فتجب فيه الدية كاملة. قال - رحمه الله - (وإن ألقته ميتا فماتت الأم فدية وغرة) لما روينا؛ ولأنه جنى جنايتين فيجب عليه موجبهما.................. . قال - رحمه الله - (ولا كفارة في الجنين)، وقال الشافعي تجب الكفارة؛ لأنه نفس من وجه فتجب احتياطا لما فيها من العبادة ولنا أن الكفارة فيها معنى العقوبة؛ لأنها شرعت زاجرة وفيها معنى العبادة؛ لأنها تتأدى بالصوم، وقد عرف وجوبها في النفوس المطلقة فلا يتعداها؛ لأن العقوبة لا يجري فيها القياس وقول الشافعي متناقض فيه؛ لأنه كان يعتبره جزءا حتى أوجب عليه عشر قيمة الأم وهنا اعتبره نفسا حتى أوجب عليه الكفارة ونحن اعتبرناه جزءا من وجه ولهذا لم يجب فيه كل البدل فكذا لا تجب فيه الكفارة؛ لأن الأعضاء لا كفارة فيها إلا إذا تبرع بها هو؛ لأنه ارتكب محظورا، فإذا تقرب بها إلى الله تعالى كان أفضل له ويستغفر الله تعالى مما صنع من الجريمة العظيمة والجنين الذي استبان بعض خلقه كالتام في جميع ما ذكرنا من الأحكام لإطلاق ما روينا؛ ولأنه ولد في حق الأحكام كأمومية الولد وانقضاء العدة به والنفاس وغير ذلك فكذا في حق هذا الحكم؛ ولأنه به يتميز من العلقة والدم ولا بد منه.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 109) الناشر: دار إحياء الكتب العربية:
(وما استبان بعضه كالتام) أي الجنين الذي استبان بعض خلقه بمنزلة الجنين التام(فيما ذكر) من الأحكام لإطلاق ما روينا.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 650)الناشر: دار إحياء التراث العربي:
(ولا كفارة في) إتلاف (الجنين) لأن الشرع إنما ورد بإيجاب الكفارة في النفوس المطلقة وهو جزء من وجه فلم يكن مورد النص ولا في معناه من كل وجه ولذا لم تجب فيه دية كاملة وإن تبرع بها احتياطا فهو أفضل لارتكابه محظورا. وقال الشافعي: تجب الكفارة لأنه نفس من وجه فإتلاف النفس يوجب الكفارة لما فيها من معنى العبادة والاستغفار مما صنع. (و) الجنين (المستبين بعض خلقه كتمام الخلق) أي الجنين الذي استبان بعض خلقه كالجنين التام في جميع ما ذكر من الأحكام.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 176) ایچ ایم سعید:
مطلب في حكم إسقاط الحمل: (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 176):
وفي الولوالجية رجل تزوج بامرأة فجاءت بسقط قد استبان خلقه، فإن جاءت به لأربعة أشهر جاز النكاح ويثبت النسب من الزوج الثاني وإن جاءت به لأربعة أشهر إلا يوما لم يجز النكاح؛ لأن في الوجه الأول الولد للزوج الثاني، وفي الوجه الثاني من الزوج الأول؛ لأن خلقه لا يستبين إلا في مائة وعشرين يوما فيكون أربعين يوما نطفة وأربعين علقة وأربعين مضغة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
27/ذوالقعدۃ 1440ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


