03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بطور معاوضہ ملنے والےشیئرز پر زکوۃ کے احکام
89584زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

  میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ میں تنخواہ کے علاوہ کمپنی کے شیئرز بھی بطور معاوضہ وصول کرتا ہوں۔ انہیں محدود اسٹاک یونٹ (RSUs) کہا جاتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو میں انہیں فروخت کرتا ہوں،ورنہ میں انہیں رکھتا ہوں اور منافع (dividend ) استعمال کرتا ہوں۔میرے ان شیئرز کو بیچنے کا کوئی ارادہ نہیں إلا یہ کہ مجھے پیسوں کی ضرورت ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ ان شیئرز پر زکوۃ کے کیا احکام ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

     شیئرزاس حصے کی نمائندگی کرتےہیں جوکمپنی کےاندرہوتاہےاورکمپنی کےکچھ اثاثےمثلا نقد،خام مال،تیار پڑوڈکٹ،قابل وصول ادھار وغیرہ قابل زکوۃ ہوتے ہیں جبکہ فکسڈاثاثے بالعموم قابل زکوۃ نہیں ہوتے۔لہٰذا صورت مسئولہ میں چونکہ آپ کا (Capital Gain) مقصود نہیں، بلکہ اصل مقصد سالانہ منافع (Dividend) حاصل کرنا ہے،اس لیے یہ مال تجارت تو نہیں ہیں ،لیکن ڈویڈنڈ کے لیے جو شیئرز ہوتے ہیں ان کے اتنے حصے کی زکوۃ دینی پڑےگی جو کمپنی میں قابل زکوۃ حصے کی نمائندگی کرےگا۔لہٰذا اگر بیلنس شیٹ کے ذریعے کمپنی کے قابل زکوۃ اثاثوں کا تناسب معلوم کرنا ممکن ہو، تو موجودہ مارکیٹ کے حساب سے اتنے فیصد کی زکوۃ ادا کریں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو احتیاطاً پوری بازاری قیمت کی زکوۃ دے دیں۔

    اس کو ایک مثال کے ذریعے سمجھ لیجیے: فرض کریں شیئر کی مارکیٹ ویلیو 100 روپے ہے، جس میں سے 60 روپے بلڈنگ اور مشینری وغیرہ کے مقابل میں ہیں اور 40 روپے خام مال، تیار مال اور نقد رقم کے مقابل میں ہیں، تو اس صورت میں چونکہ ان شیئرز کے 40 روپے قابلِ زکوٰۃ حصوں کے مقابل میں ہیں، اس لیے 40 روپے کی زکوٰۃ ڈھائی فیصد کے حساب سے واجب ہوگی، جبکہ 60 روپے کی زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔

حوالہ جات

    الفتاوی الھندیۃ: (179/1)

"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنةً ما كانت إذا بلغت قيمتها نصاباً من الورق والذهب، كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة، كذا في التبيين۔ وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة، كذا في المضمرات."

    کذا فی "فقہی مقالات "للشیخ المفتی تقی العثمانی،حفظہ اللہ تعالی :   (155/1) 

 محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

09/رجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب