03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شریعہ کمپلائنٹ حصص (Shares) کی خرید و فروخت
89701خرید و فروخت کے احکامشئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل

سوال

کیا پاکستان سٹوک ایکسچینج میں انویسٹ کرنا جائز ہے؟ یا پھر شریعہ کمپلینٹ کمپنی میں انویسٹ کرنا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پاکستان سٹاک ایکسچینج(PSX) میں جائزانوسٹمنٹ کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ KMI-30 (Karachi Meezan Index) میں شامل کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں، کیونکہ ان کمپنیوں کی شرعی معیارات (Shariah Screening Criteria) پر اسکرینینگ باقاعده مستند مفتیانِ کرام اور شریعہ بورڈز کی نگرانی میں ہوتی ہے، جو ان کے حصص کے لین دین کے جائز ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔

البتہ منافع (Dividend) میں سے اتنے فیصد حصہ نکال کر بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دیں، جو ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ ہو۔ یہ شرح عام طور پر شریعہ اسکریننگ رپورٹ میں درج ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ سی ڈی سی اکاونٹ میں منتقلی سے پہلے خرید و فروخت کی ہر صورت سے اجتناب کریں۔

اسی طرح شریعہ کمپلائنٹ (Shariah Compliant) کمپنی میں انویسٹمنٹ کرنابھی جائز ہے، چاہے اسٹاک ایکسچینج کے توسط سے حصص خریدے جائیں یا بلاواسطہ (Direct) کمپنی سے ہی خریدے جائیں۔ تاہم، اس بات کی تحقیق لازمی ہے کہ کمپنی کو واقعی مستند مفتیانِ کرام یا شرعی بورڈ نے شریعہ کمپلائنٹ قرار دیا ہو۔ صرف کمپنی کے دعوے پر بھروسہ کرنے کے بجائے اس سرٹیفکیٹ کی باقاعده متعلقہ ادارے سے تصدیق کرنی چاہیے۔ مزید یہ کہ یہ سرٹیفکیٹس ایک خاص مدت (عموماً ایک سال یا چھ ماہ) کے لیے جاری کیے جاتے ہیں، اس لیے مدت ختم ہونے پر دوبارہ تصدیق کرنی چاہیے کہ آیا کمپنی اب بھی شریعہ کمپلائنٹ (Shariah Compliant) ہے یا نہیں۔

حوالہ جات

المعاییر الشرعیۃ:(ص:567)

يمثل السهم حصة شائعة في رأس مال شركة المساهمة، كما يمثل حصة شائعة في موجوداتها وما يترتب عليها من حقوق عند تحول رأس المال إلى أعيان، ومنافع، وديون ونحوها، ومحل العقد عند تداول الأسهم هو هذه الحصة الشائعة. يجوز شراء أسهم الشركات المساهمة وبيعها حالاً أو آجلاً فيما يجوز فيه التأجيل إذا كان غرض ونشاط الشركة مباحاً، سواء أكان استثماراً (أي اقتناء السهم بقصد ربحه) أم متاجرة (أي بقصد الاستفادة من فروق الأسعار).

المعاملات المالية أصالة ومعاصرة - الدبيان (98/13)

أن شركة الأموال تعتبر من الشركات الحديثة التي لم يتناولها الفقهاء المتقدمون بالدراسة والتحقيق ؛ لأنها لم تكن معروفة في عهدهم، مما يجعلها محل اجتهاد المتأخرين.

والدليل على أنها نوع جديد لم يكن معروفًا أن الشركات التي ذكرها الفقهاء من شركة المضاربة ،والعنان والوجوه، والمفاوضة والأبدان تكاد تتفق على اعتبار شخصية الشريك، بخلاف شركات الأموال الشركات المساهمة) والتي لا يكون للشريك فيها، وشخصيته أي اعتبار بل يكون قيامها على المال فقط فتطرح أموالها على الجمهور، ويستطيع أن يحصل عليها كل من يقدر على دفع قيمتها، ويكون اهتمام الشركة موجهًا إلى جمع رأس المال اللازم لها، دون بحث في شخصية الشركاء . وكونها تشبه من بعض الوجوه شركة المضاربة، أو شركة العنان، فإن هذا الشبه من بعض الوجوه لا يعني أنها مطابقة لها من كل الوجوه ؛ لأن التشابه بين الشركات في بعض الخصائص قائم حتى في تلك الشركات القديمة، فمن المعلوم أن بعض خصائص شركة العنان مشابهة لخصائص شركة المضاربة، ولم يجعل الفقهاء هذه الشركات شركات ،واحدة ولا يعلم دليل شرعي يربط مشروعية الشركات الحديثة بكونها مشابهة للشركات القديمة المذكورة في كتب الفقهاء، بل القاعدة الشرعية تنص على أن الأصل في المعاملات الحل والإباحة إلا ما دل الدليل على تحريمه منها.  وهذا القول ليس فيه تكلف وينسجم مع القول بجواز إحداث عقود وشروط جديدة إذا كانت خالية من المحظور الشرعي.

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

21 رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب