03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رمضان میں بغیر جماعت کےوتر پڑھنے کا حکم
89721نماز کا بیانوترکا بیان

سوال

رمضان میں جو وتر جماعت کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں، کیا ان کو جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے یا آدمی اکیلا (انفرادی) بھی پڑھ سکتا ہے؟ اور اگر دعائے قنوت پوری نہ ہو پائے اور امام رکوع میں چلے جائیں تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

رمضان  میں وتر بغیر جماعت کے پڑھ سکتے ہیں، البتہ افضل یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ ہی ادا کیے جائیں اوراگر وتر کی نماز میں امام مقتدی کی دعائے قنوت مکمل ہونے سے پہلے رکوع میں چلا جائےتو مقتدی کے لیے امام کی اقتدا کرتے ہوئے فوراً رکوع میں جانا ضروری ہےاورمقتدی جس قدر بھی دعائے قنوت پڑھ لے واجب ادا ہوجائے گا۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 116):

ويوتر بجماعة في رمضان فقط عليه إجماع المسلمين، كذا في التبيين ‌الوتر ‌في ‌رمضان ‌بالجماعة أفضل من أدائها في منزله وهو الصحيح.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص91):

(ركع ‌الامام ‌قبل ‌فراغ ‌المقتدي) من القنوت قطعه و (تابعه) ولو لم يقرأ منه شيئا تركه إن خاف فوت الركوع معه.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 10):

(قوله قطعه وتابعه) لأن المراد بالقنوت هنا الدعاء الصادق على القليل والكثير، ‌وما ‌أتى ‌به ‌منه ‌كاف ‌في ‌سقوط ‌الواجب.

محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21 /رجب المرجب/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب