| 89700 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
جاز کیش سے پیسے قرض لینے کے بعد ہمیں ہر ١ہزار روپے کے ساتھ پچاس روپے اضافی لوٹانے ہوتے ہیں اور ہر ہفتے پچاس روپے بڑھتے جاتے ہیں تو کیا جاز کییش سے اس صورت میں قرضہ لینا جائز ہے ؟ اور کیا یہ اضافی پچاس روپے سود میں شامل ہوں گے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جیز کیش سے قرض لینا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ جیز کیش قرض اس شرط پر دیتا ہے کہ واپسی کے وقت اصل رقم سے زائد رقم وصول کی جائےگی، نیز وہ مدت کے ساتھ بڑھتی بھی جائے گی ،اور یہ صریح سود ہے۔
حوالہ جات
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (130)
صحيح البخاري(2/ 734):
اخرجه الامام البخاري ............. ، فإذا أراد الرجل أن يخرج رمى الرجل بحجر في فيه، فرده حيث كان، فجعل كلما جاء ليخرج رمى في فيه بحجر، فيرجع كما كان، فقلت: ما هذا؟. فقال: الذي رأيته في النهر آكل الربا).
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (7/ 8):
لأن الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه،
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


