| 71587 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
جب حرمت مصاہرت ایک حساس مسئلہ ہے توموجودہ معاشرے میں اس سے کس طرح بچاجاسکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کے بنیادی مقصد میں سے حفاظت نسل ہے،لہذا شریعت نے اس کو متاثر کرنے والے ممکنہ تمام صورتوں کو ممنوع اور حرام قرار دیا ہے۔(جیساکہ تفصیل کے ساتھ آگے دلائل آتے ہیں۔)جن میں ایک حرمت مصاہرت بھی ہے۔ لہذا اس بارے میں نہایت احتیاط کی ضرورت ہے،لہذا خواتین کے ساتھ مصافحہ ،معانقہ ، بالخصوص بڑی عمر کی خواتین کے نوجوان بچوں کو چومنے کے عمل سے سختی سے اجتناب کی ضرورت ہے، بالخصوص بہووسسر اور داماد وساس کے رشتہ میں جس قدر نہایت حساسیت پائی جاتی،معاشرے میں اس بارے میں اسی قدر سنگین غفلت پائی جاتی ہے،اس رشتہ سے متعلق آئے روز کثرت سےواقعات رونما ہورہے ہیں جن میں کم مقدار بصورت استفتاءات وصول ہورہے ہیں،لہذا ساس بہوکے ساتھ داماد یا سسر کے مصافحہ ، معانقہ یا بوسہ لینے کے عمل سے سختی سے اجتناب کی ضرورت ہے،بالخصوص کسی بھی محرم یا نامحرم مرد یا عورت کوجنس مخالف سےجسم دبوانے کی تو ہر گز اجازت نہیں دی جانی چاہئے، اس لیے کہ یہ بدکاری کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے، اور اس طرح کئی گھر اب تک اجڑ چکے ہیں۔
حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ"سسر اور داماد سے اگرچہ شرعی طور پر پردہ نہیں، لیکن خوف فتنہ کی صورت میں احتیاط ضروری ہے،لہذا ایسی صورت میں تنہائی اور ان کے ساتھ سفر جائز نہیں ۔)
آگے لکھتے ہیں کہ" بعض علاقوں میں سسر/ ساس کے ساتھ ہاتھ ملانے کا دستور ہے، جو بالکل غلط اور واجب الاصلاح ہے، ایسی صورت میں اگر کسی ایک کو بھی شہوت آگئی تو شوہر(داماد)پر اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی۔"(ازاحسن الفتاوی:ج۸،ص۳۵)
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۳جمادی الثانیۃ ۱۴۴۲ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


