| 79330 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
میں کھاد اور دیگر زرعی مصنوعات کی خریداری میں سرمایہ کاری کرنا چاہوں گا۔ میں نے ایک فرٹیلائزر کمپنی میں کام کیا ہے اس لیے میں جانتا ہوں کہ اس صنعت کے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آف سیزن کے دوران جب کسانوں کو کھاد یا دیگر مصنوعات لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، کھاد کمپنی کی تجویز کردہ قیمت پر فروخت ہوتی ہے، یا اس سے تھوڑا کم. سیزن شروع ہوتے ہی کھاد کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔ لہذا اگر یوریا کی کمپنی قیمت 1200 ہے تو ڈیلر اسے 1200 میں مارکیٹ میں فروخت کرے گا۔ لیکن ایک بار جب سیزن شروع ہو جائے گا، کیونکہ یہ مصنوعات عام طور پر کم سپلائی میں ہوتی ہیں، قیمت بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس صورت حال میں اگر میں آف سیزن میں کمپنی سے کھاد خریدتا ہوں اور اسے سیزن شروع ہونے تک ذخیرہ کرتا ہوں تاکہ اچھے منافع پر فروخت ہوسکے تو کیا یہ جائز ہے یا ذخیرہ اندوزی کے تحت آتا ہے؟ میرا ارادہ اسے روکنا نہیں ہے کہ قیمت بڑھ جائے گی۔ قیمت اس وقت بڑھے گی جب کسانوں کو پروڈکٹ لگانے کی ضرورت ہوگی۔ تو اگر مجھے اس سے فائدہ پہنچے تو کیا یہ حرام میں آئے گا؟ اگر یہ جائز ہے تو کیا میں دوسری زرعی مصنوعات جیسے بیج یا زرعی آلات کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب ذخیرہ کرنے سے نہ تو مارکیٹ کی طلب ورسد متاثر ہو اور نہ اس سے مقصد قیمت کو بڑھانا ہو،بلکہ محض تجارتی نقطہ نظر سے ذخیرہ کیا جائے تو یہ عمل جائز ہے اور اس کی کمائی بھی حلال ہے، البتہ جہاں ذخیرہ اندوزی سے اس چیز کی مصنوعی قلت پیدا ہوجائے اورعوام کو ضرر ہو اور اس سے مارکیٹ کی طلب ورسد پر اثر پڑےتو پھر یہ عمل اور اس کے منافع ناجائز ہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 398)
(و) كره (احتكار قوت البشر) كتبن وعنب ولوز (والبهائم) كتبن وقت (في بلد يضر بأهله) لحديث «الجالب مرزوق والمحتكر ملعون» فإن لم يضر لم يكره
الفتاوى الهندية (3/ 213)
الاحتكار مكروه وذلك أن يشتري طعاما في مصر ويمتنع من بيعه وذلك يضر بالناس كذا في الحاوي، وإن اشترى في ذلك المصر وحبسه ولا يضر بأهل المصر لا بأس به كذا في التتارخانية ناقلا عن التجنيس من مكان قريب من المصر فحمل طعاما إلى المصر وحبسه وذلك يضر بأهله فهو مكروه هذا قول محمد - رحمه الله تعالى - وهو إحدى الروايتين عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - وهو المختار هكذا في الغياثية وهو الصحيح هكذا في الجواهر الأخلاطي.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۵رجب۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


