03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
صرف ٹشو پیپر سے استنجاء کے بعدوضو کر کے نماز کا حکم
80350پاکی کے مسائلاستنجاء کا بیان

سوال

اسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ محترم مفتی صاحب معلوم یہ کرنا ہے کہ زید پیشاب اور پیخانہ کو صرف ٹیشو پیپر سے صاف کرتا ہے، پانی استعمال نہیں کرتا جبکہ پانی بھی موجود ہوتا ہے کیا ایسا کرنے سے زید پاکی حاصل کرلیتا ہے ؟ جزاک اللہ خیر سید عاصم علی

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر پیشاب کی نجاست ہاتھ کی ہتھیلی کےگہرائی کے پھیلاؤکے مقدار سے زیادہ نہیں پھیلی تو صرف ٹشو پیپر کے استعمال کے بعد وضو سے نماز تو ادا ہوجائے گی ، لیکن  پانی سےنہ دھونا مکروہ تنزیہی ہوگا اور اگر مذکورہ مقدارسے زائد جگہ پرپھیلی ہو تو ایسی صورت میں  ٹشو پیپر کا استعمال کافی نہیں ہوگا،بلکہ دھونا لازم ہوگا،ورنہ نماز نہ ہوگی، البتہ اگر نجاست کسی بھی جانب سے بالکل اپنی جگہ سے تجاوز نہ کرچکی ہو تو ایسی صورت میں صرف ٹشو کے استعمال کے بعد وضو کرنے سے نماز درست ہوجائے گی ۔(احسن الفتاوی:ج۲،ص۱۰۷)

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 338):

(ويجب) أي: يفرض غسله (إن جاوز المخرج نجس) مائع ويعتبر القدر المانع لصلاة (فيما وراء موضع الاستنجاء) ؛ لأن ما على المخرج ساقط شرعا وإن كثر، ولهذا لا تكره الصلاة معه.

 (قوله: ولهذا إلخ) استدلال على سقوط اعتبار ما على المخرج، وفيه أن ترك غسل ما على المخرج إنما لا يكره بعد الاستجمار كما عرفته لا مطلقا،

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 318):

(وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم

ومقتضاه أن قدر الدرهم من الكثيفة لو كان منبسطا في الثوب أكثر من عرض الكف لا يمنع كما ذكره سيدي عبد الغني.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۷ذیقعدہ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب