| 77220 | جائز و ناجائزامور کا بیان | غیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان |
سوال
محترم مفتیان کرام
میں بطور سپاہی بلوچستان پولیس میں بھرتی ہوا ہوں۔مجھے کچھ مسائل کے بارے میں راہنمائی درکار ہے۔
ہمارے ادارے میں جو لوگ وقت کی پابندی کرتے ہیں اور وقت پر پہونچتے ہیں ان کی ڈیوٹیاں زیادہ ہوجاتی ہیں اور جو وقت پر نہیں آتے ٹال مٹول کرتے ہیں ان کی ڈیوٹیاں کم بھی ہوتی ہیں اور اچھی جگہ بھی لگتی ہیں۔کیا میں بھی ٹال مٹول یا بہانے سے اپنے آپ کو چھڑوا سکتا ہوں؟محکمے والے ناجائز بھی کرتے ہیں ڈیوٹی میں اور ایسے بھی بلاتے ہیں،جبکہ کچھ لوگ پیسے دے کر گھروں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ایسے حالات میں آدمی جھوٹ نہیں بول سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ادارے کی طرف سے ڈیوٹی کے جو اوقات مقرر ہوں ان میں بروقت اور مکمل وقت تک کے لیے حاضرہونا آپ پرلازم ہے ۔دیگر ملازمین اپنی ذمہ داری صحیح طور سے انجام نہ دے رہے ہوں تب بھی آپ کے لیے اس مقررہ وقت میں ٹال مٹول یا بہانہ کرکے کمی کوتاہی کرنا جائز نہیں ہوگا،البتہ اگر طے شدہ اوقات کے علاوہ بھی آپ کو بلایا جائے اور آپ راضی نہ ہوں تو آپ منع کرسکتے ہیں۔واضح طور پر منع کرنے سے نقصان کا اندیشہ ہو تو اس سےبچنے کے لیے ایسی تعبیر اختیار کرنے کی گنجائش ہے جس سے مقصود بھی حاصل ہوجائے اور صریح جھوٹ کا ارتکاب بھی نہ کرنا پڑے،کیونکہ جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ اور حرام ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 427)
الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه والمراد التعريض لأن عين الكذب حرام.
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
7ذوالقعدہ1443 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


