| 92860 | نان نفقہ کے مسائل | بیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل |
سوال
مفتی صاحب! میری شادی کو دو سال ہو چکے ہیں۔ ابتدا میں ملازمت کے سلسلے میں بہاولپور میں رہائش پذیر تھا اور اپنی بیوی کو الگ کرائے کے گھر میں اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ بعد ازاں میرا تبادلہ رحیم یار خان ہوگیا، تو میں اپنی بیوی کے ساتھ اپنے والدین کے گھر منتقل ہوگیا۔ وہاں ہمارے کمرے، کچن اور واش روم الگ ہیں، بلکہ گزشتہ دو ماہ سے کھانا پینا بھی الگ ہے۔
میرے والدین اور بیوی کے درمیان اکثر اختلافات رہتے تھے۔ بعض اوقات میرے والدین کی طرف سے میری بیوی کو سخت باتیں کہی جاتیں اور کبھی میری بیوی بھی جواب دیتی۔ میں اسے سمجھاتا تھا کہ والدین کی بعض باتوں کو برداشت کرے اور گھر کے معاملات اپنی والدہ کو بتا کر اختلافات کو مزید نہ بڑھائے، لیکن صورتِ حال بہتر نہ ہوسکی۔
ایک دن میرے والد کی طرف سے تلخ کلامی کے بعد میری بیوی نے اپنی والدہ کو گھر بلا لیا، جس کے نتیجے میں میرے والدین اور سسرال والوں کے درمیان کئی گھنٹے شدید جھگڑا جاری رہا۔ اس دوران میری ساس نے متعدد مرتبہ کہا کہ میں آکر اپنی بیٹی کو طلاق دے دوں۔ اس واقعے کے بعد میری بیوی اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔
بعد ازاں میری بیوی نے مجھ سے معافی مانگی اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا۔ میں نے اپنے والدین سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میری بیوی واپس آنا چاہے تو آسکتی ہے، لیکن میں اسے لینے سسرال نہیں جاؤں گا اور نہ آئندہ اپنے سسرال والوں سے ملاقات کروں گا۔ میں نے یہی بات اپنی بیوی کو بتائی، جس پر اس نے مجھے واٹس ایپ پر بلاک کردیا۔ اب اٹھارہ دن گزر چکے ہیں اور وہ اپنے والدین کے گھر مقیم ہے۔
میرے سسرال والے اصرار کر رہے ہیں کہ میں اپنے والدین سے الگ ہوکر بیوی کو الگ گھر میں رکھوں، جبکہ میرے والدین اس کے مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہمارا کمرہ، کچن، واش روم اور کھانا پینا پہلے ہی الگ ہے تو مجھے ان سے الگ گھر میں منتقل ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں الگ گھر کا خرچ برداشت کرسکتا ہوں، لیکن اپنے والدین سے الگ رہنا نہیں چاہتا، اور میرے والدین بھی نہیں چاہتے کہ میں ان سے علیحدہ ہوجاؤں۔
اب دریافت طلب امور یہ ہیں:
- ایسی صورتِ حال میں میرے لیے شرعاً کیا طرزِ عمل اختیار کرنا مناسب ہے؟
- کیا والدین کی خواہش کے مطابق ان کے ساتھ رہنا میرے لیے ضروری ہے، یا بیوی کے مطالبے پر الگ گھر میں رہائش اختیار کرنا شرعاً لازم ہے؟
- موجودہ صورتِ حال میں بیوی کے ساتھ اختلافات ختم کرکے ازدواجی زندگی بحال کرنے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ میاں بیوی اور ان کے متعلقین کے رشتے قواعد و ضوابط کے بجائے باہمی رابطوں اور تعلقات کی بنیاد پر نبھائے جائیں تو یہ رشتے کامیاب رہتے ہیں۔ اسلام نے ہر مسلمان کو تمام رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ معاشرت کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ جس طرح بیوی پر شوہر کے حقوق کی ادائیگی اور اس کے والدین کا احترام و توقیر لازم ہے، اسی طرح شوہر کے ذمے بھی بیوی کے حقوق کی ادائیگی لازم ہے۔ نیز شوہر کے والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ آنے والی بہو کو اپنی حقیقی بیٹی سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ وہی سلوک اور برتاؤ کریں جو اپنی حقیقی بیٹی کے ساتھ کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں دونوں جانب سے حقوق کے مطالبے پر اصرار کرنے کے بجائے اخلاقِ کریمانہ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بیوی کو چاہیے کہ اپنی ساس کی باتوں کو حتی الامکان برداشت کرے، ان کی نصیحتوں کا خندہ پیشانی سے استقبال کرے اور شوہر کے والدین کی خدمت کرے۔ یہ میاں بیوی، دونوں کی سعادت اور اخروی نیک بختی کا ذریعہ ہے۔ شوہر کے بزرگ والدین کے ساتھ رہ کر ان کی خدمت کرنے کا حوصلہ اور ہمت بیوی کو لائقِ رشک بنا دیتا ہے، نیز میاں بیوی خود بھی اس کی برکتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس لیے میاں بیوی کو حتی الامکان یہی کوشش کرنی چاہیے کہ والدین کے ساتھ رہ کر ان کی خدمت کریں۔ اگر والدین کی طرف سے کوئی سخت یا ناروا بات بھی ہوجائے تو اس پر صبر کریں اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھیں۔
تاہم، اگر بیوی میں اتنا حوصلہ نہ ہو کہ وہ شوہر کے والدین کے ساتھ رہ سکے تو اس کے لیے شوہر کے والدین کے ساتھ رہنا لازم نہیں ہے، بلکہ شریعت نے عورت کو الگ رہائش کا حق دیا ہے۔ چنانچہ اگر بیوی مال دار ہو تو اسے الگ مکان دینا واجب ہے۔ متوسط درجے کی عورت کے لیے اسی مکان میں ایک مستقل کمرے کے علاوہ باورچی خانہ، غسل خانہ اور بیت الخلاء بھی مستقل ہونا ضروری ہیں، جبکہ غریب عورت کے لیے صرف ایک کمرہ کافی ہے، اور باورچی خانہ، غسل خانہ اور بیت الخلاء مشترک ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں۔
ایسی صورت میں، شوہر کے والدین اور بیوی، دونوں کو روزانہ کی اذیت سے بچانے کے لیے بہتر یہ ہے کہ الگ رہائش اختیار کرلی جائے۔ تاہم، علیحدہ رہائش اختیار کرنے میں شوہر کے والدین سے قطع تعلق کی نیت نہیں ہونی چاہیے، بلکہ نیت یہ ہو کہ ساتھ رہنے کی وجہ سے والدین کو جو اذیت پہنچتی ہے اور ان کی جو بے ادبی ہوتی ہے، اس سے بچا جاسکے۔ گویا، والدین کو قصوروار ٹھہرا کر نہیں، بلکہ اپنی کوتاہیوں کا احساس کرتے ہوئے الگ ہونا چاہیے۔ الگ ہونے کے بعد بھی شوہر کے والدین کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھنا چاہیے۔
بیوی کے لیے الگ رہائش کا بندوبست کرنا ایک الگ معاملہ ہے، جبکہ والدین کے ساتھ محبت کا اظہار، ان سے تعلق رکھنا اور ان کے ساتھ میل جول برقرار رکھنا ایک الگ معاملہ ہے۔ اولاد کے دل میں والدین کی محبت ہونی چاہیے اور ان کے حقوق کی ادائیگی بھی اولاد پر لازم ہے۔ شوہر بیک وقت ان دونوں امور کو بحسن و خوبی انجام دے سکتا ہے۔ بیوی کو علیحدہ رہائش دینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ والدین کے لیے اس کی محبت یا ان کے ساتھ میل جول میں کسی طرح کی کمی کی جائے۔
اسی طرح، بیوی کو الگ رہائش دینے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ شوہر والدین کو چھوڑ کر ہر وقت بیوی کے پاس موجود رہے۔ جس طرح انسان اپنے کاروبار اور دیگر ضروریات کے لیے دن بھر گھر سے باہر رہتا ہے، اسی طرح والدین کی خدمت، ان سے میل جول اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے لیے بھی مناسب ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔ یہ کوئی ایسا کام نہیں جو ناممکن یا بہت مشکل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسی نظامِ زندگی سے وابستہ پیدا کیا ہے کہ وہ دنیا میں اپنے مختلف تعلقات کو نبھاتے ہوئے کامیاب زندگی گزارے۔
لہٰذا، شوہر کو چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق بیوی کا الگ رہائش کا مطالبہ بھی پورا کرے اور والدین کے ساتھ میل جول بھی برقرار رکھے۔ بلاشبہ، ان دونوں ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے ہمت اور حکمت کی ضرورت ہے، لیکن یہ کام نہ ناممکن ہے اور نہ ہی ایسا مشکل کہ اسے انجام نہ دیا جاسکے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 556)
تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك كذا في العيني شرح الكنز
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 601)
أبت أن تسكن مع ضرتها أو صهرتها، إن أمكنه أن يجعل لها بيتا على حدة في داره ليس لها غير ذلك،
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 599)
وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) (وأهلها) (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية. وفي البحر عن الخانية: يشترط أن لا يكون في الدار أحد من أحماء الزوج يؤذيها، ونقل المصنف عن الملتقط كفايته مع الأحماء لا مع الضرائر فلكل من زوجتيه مطالبته ببيت من دار على حدة.
(قوله وكذا تجب لها) أي للزوجة السكنى أي الإسكان، وتقدم أن اسم النفقة يعمها؛ لكنه أفردها؛ لأن لها حكما يخصها نهر (قوله خال عن أهله إلخ) ؛ لأنها تتضرر بمشاركة غيرها فيه؛؛ لأنها لا تأمن على متاعها ويمنعها ذلك من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار ذلك؛ لأنها رضيت بانتقاص حقها هداية۔
(قوله ومفاده لزوم كنيف ومطبخ) أي بيت الخلاء وموضع الطبخ بأن يكونا داخل البيت أو في الدار لا يشاركها فيهما أحد من أهل الدار. قلت: وينبغي أن يكون هذا في غير الفقراء الذين يسكنون في الربوع والأحواش بحيث يكون لكل واحد بيت يخصه وبعض المرافق مشتركة كالخلاء والتنور وبئر الماء ويأتي تمامه قريبا (قوله لحصول المقصود) هو أنها على متاعها؛ وعدم ما يمنعها من المعاشرة مع زوجها والاستمتاع (قوله وفي البحر عن الخانية إلخ) عبارة الخانية: فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لها أن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها. اهـ
وعلى ما نقله المصنف عن ملتقط صدر الإسلام يكفي مع الأحماء لا مع الضرة، وعلى ما نقلنا عن ملتقط أبي القاسم وتجنيسه للأسروشني أن ذلك يختلف باختلاف الناس، ففي الشريفة ذات اليسار لا بد من إفرادها في دار، ومتوسط الحال يكفيها بيت واحد من دار. ومفهومه أن من كانت من ذوات الإعسار يكفيها بيت ولو مع أحمائها وضرتها كأكثر الأعراب وأهل القرى وفقراء المدن الذين يسكنون في الأحواش والربوع، وهذا التفصيل هو الموافق، لما مر من أن المسكن يعتبر بقدر حالهما، ولقوله تعالى - {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: 6]-
فينبغي الإفتاء بلزوم دار من بابها، نعم ينبغي أن لا يلزمه إسكانها في دار واسعة كدار أبيها أو كداره التي هو ساكن فيها؛ لأن كثيرا من الأوساط والأشراف يسكنون الدار الصغيرة، وهذا موافق لما قدمناه عن الملتقط من قوله اعتبارا في السكنى بالمعروف۔
محمد عمران
دار الافتاء جامعہ الرشید کراچی
14/جمادی الاولٰی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


