03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذکر کےآداب (منہ میں پان نسوار گٹکا وغیرہ ہوتے ہوئے ذکر کرنا)
78809ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائلرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے (

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے منہ میں پان،گٹکا یا نسوار وغیرہ جیسی کسی چیز کے رہتے ہوئے میں اپنے آپ کو ذکر میں مصروف رکھ سکتا ہوں۔ اور کیا ذکر کرنے کے لئے کپڑوں کا پاک ہونا اور باوضو ہونا بھی لازمی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آدابِ ذکر میں سے ہے کہ انسان کا منہ پاک صاف ہو،لہٰذا پان، گٹکا جیسی چیزوں کو تھوک کر  اور منہ سے بدبو کو دور کر کے ذکر ِالٰہی کرنا چاہیے۔مذکورہ اشیاء کھانے سے  انسان کا منہ  بدبو دار  ہو تو  ذکر کرنا مکروہ ہےالبتہ ذکر ہوجائے گا۔نیز ذکر کے لیے کپڑوں کا پاک ہونا اور باوضو ہونا لازمی نہیں ہے۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (1/170):

"عن جابر بن عبد الله، زعم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((من أكل ثوما أو بصلا، فليعتزلنا - أو قال: فليعتزل مسجدنا - وليقعد في بيته))".

الاذکار النوویۃ1/12)):

"(لايذكر الله تعالى إلا في مكان طيب) وينبغي أيضاً أن يكون فمه نظيفاً، فإن كان فيه تغير أزاله بالسواك، وإن كان فيه نجاسة أزالها بالغسل بالماء، فلو ذكر ولم يغسلها فهو مكروه ولايحرم."

تاريخ المدينة لابن شبة (1/34):

"عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه سمع ناسا من التجار يذكرون تجاراتهم والدنيا في المسجد، فقال: «إنما بنيت هذه المساجد لذكر الله»".

شرح حصن المسلم (1/30):

"ومن آدابه: أن يكون فمه نظيفاً، فإن كان فيه تغيّر أزاله بالسواك، وبالغسل بالماء".

النهر الفائق شرح كنز الدقائق (1/ 133):

"لا خلاف في حل الأذكار واختلف في دعاء القنوت والفتوى على عدم كراهيته أي تحريما."

الدر المختار (1/ 174):

"لا تكره (أدعية) أي تحريما، وإلا فالوضوء لمطلق الذكر مندوبِ."

  محمدفرحان

 دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

17  جمادی الثانی 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب