| 78885 | طلاق کے احکام | عدت کا بیان |
سوال
لڑکی نے کورٹ کے ذریعہ خلع کی ہو تو اُس کی عدت کی مدت کتنی ہے،کیونکہ کچھ لوگ دو ماہ دس دن بتاتے ہیں اور کچھ تین ماہانہ پیرئیڈ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عدالت کی طرف سے جاری کردہ خلع کا یک طرفہ فیصلہ شرعاً معتبر نہیں، کیونکہ خلع کے شرعاً درست ہونے کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی کا ہونا ضروری ہے،لہٰذا جب تک شوہر اس پر راضی نہ ہو یک طرفہ خلع کالعدم ہوگا اور نکاح برقرار رے گا،اور اگر شوہر یا اس کے وکیل نے اس عدالتی فیصلہ پر دستخط کئے ہوں یا شوہر نےزبانی اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہو تو اس صورت میں شرعاً خلع معتبر ہوگااور ایک طلاق بائن واقع ہوگی۔
اگر عورت کو ماہواری آتی ہے تو خلع کی عدت تین ماہواریاں (حیض) ہیں، اگر ماہواری نہیں آتی تو قمری مہینے کے حساب سے تین ماہ عدت ہےاور اگر حمل ہو تو عدّت وضعِ حمل (بچے کی پیدائش) ہے۔
حوالہ جات
{وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: 228]
{وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 4]
سنن الدارقطني 5/ 83
عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم «جعل الخلع تطليقة بائنة».
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440)
في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده۔
الفتاوى العالمكيرية : 1/ 526
إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.
والعدة لمن لم تحض لصغر أو كبر أو بلغت بالسن ولم تحض ثلاثة أشهر كذا في النقاية.
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
18/جمادی الثانیہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


