| 78886 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
ایک شخص نے سولہ،سترہ(16،17) سال پہلے ایک عیسائی خاتون (دو بچوں کی ماں)کو مسلمان کرنے کے بعد اس سے نکاح کیا۔اس خاتون اور دونوں بچوں کے نام مسلمانوں والے تھے،لیکن ان کے عیسائی باپ کا نام مسلمانوں والا نہیں تھا،جو کہ اب وفات پاچکا ہے۔اب مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ ان کے تعلیمی ریکارڈ اور دیگر کاغذات بشمول قومی شناختی کارڈ میں اصل باپ (یعنی عیسائی)کی ولدیت درج نہیں ہے،بلکہ موجودہ مسلمان شخص( جو کہ ان کی والدہ کا شوہر ہے)کی ولدیت درج ہے۔آئندہ جب بھی ان بچوں کا نکاح ہوگاتو ان کے نکاح پر کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟جبکہ جس سے بھی ان کی شادی ہوگی اُن کو حقیقت کا پہلے سے علم ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر عقد نکاح کے وقت لڑکا یا لڑکی خود موجود ہو اور گواہ اسے جانتے ہوں تو نکاح صحیح منعقد ہوگا،والد کا نام غلط لینے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوگا،البتہ ولدیت کوغلط بیان کرنا اور لکھوانا دھوکااورجھوٹ ہے ،لہذا ایسا کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 26)
لو غلط في اسمها (قوله: إلا إذا كانت حاضرة إلخ) راجع إلى المسألتين: أي فإنها لو كانت مشارا إليها وغلط في اسم أبيها أو اسمها لا يضر لأن تعريف الإشارة الحسية أقوى من التسمية، لما في التسمية من الاشتراك لعارض فتلغو التسمية عندها، كما لو قال اقتديت بزيد هذا فإذا هو عمرو فإنه يصح.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 91)
وفي الخانية لو وكلت امرأة رجلا بأن يزوجها فزوجها وغلط في اسم أبيها لا ينعقد النكاح إذا كانت غائبة.
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
18/جمادی الثانیہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


