| 78883 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
شوہر کے لیے اپنی بیوی سے اپنے ماں باپ کی خدمت زبردستی کرانا صحیح ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی سے خدمت کرانا چاہے تو اس کی شرعی صورت کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوہر کے والدین کی خدمت شرعا اس کی بیوی کے ذمے واجب نہیں، بلکہ خود اس پر واجب ہے، اس لیے شوہر بیوی کو اپنے والدین کی خدمت پر مجبور نہیں کرسکتا۔ لیکن شوہر کے والدین اور عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے ان کی خدمت کرنا، بیوی کی اخلاقی ذمہ داری اور سعادت مندی ہے۔ نیز میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہے کہ اس میں خالص ضوابط اور قانونی بنیادوں پر چلنا مشکل ہوتا ہے، میاں بیوی کو ضابطوں سے ہٹ کر بھی ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے؛ تاکہ زندگی خوش گوار گزرے۔ اگر بیوی اپنے شوہر کے والدین کی خدمت بالکل نہیں کرے گی تو یہ شوہر کے لیے مشکلات کا باعث ہوسکتا ہے؛ اس لیے ایک دوسرے کو مشکلات سے بچانے اور بزرگ ہونے کی بناء پر بیوی کو چاہیے کہ بقدرِ استطاعت اپنی ساس اور سسر کی خدمت کرنے کی کوشش کرے۔ البتہ ساس، سسر کو بھی چاہیے کہ بہو سے اتنی اور ایسی خدمت نہ لیں جو اس کے بس میں نہ ہو، یا اس کے لیے مشکل ہو، اور جب وہ ان کی خدمت کرے تو اس کا شکریہ ادا کریں اور حوصلہ افزائی کریں۔
حوالہ جات
صحيح ابن حبان (2/ 203):
عن ابن عباس رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال: ليس منا من لم يوقر الكبير ويرحم الصغير ويأمر بالمعروف وينه عن المنكر .
المستدرك - الهندية (1/ 62):
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان عن بن أبي نجيح عن عبد الله بن عامر عن عبد الله بن عمر ويبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال * ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويعرف حق كبيرنا.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتج بعبد الله بن عامر اليحصبي، ولم يخرجاه، وشاهده الحديث المعروف من حديث محمد بن إسحاق وغيره عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده……. الخ
سنن الترمذي (4/ 372):
حدثنا محمد بن المثنى حدثنا يزيد بن بيان العقيلي حدثنا أبو الرحال الأنصاري عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: ما أكرم شاب شيخا لسنه، إلا قيض الله له من يكرمه عند سنه.
قال أبو عيسى: هذا حديث غريب، لا نعرفه إلا من حديث هذا الشيخ يزيد بن بيان، و أبو الرجال الأنصاري آخر.
مرقاة المفاتيح (14/ 260):
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: "ليس منا" أي من خواصنا، وهو كناية عن التبرئة، "من لم يرحم صغيرنا ويوقر" بالجزم، وفي نسخة "ولم يوقر" أي لم يعظم كبيرنا، وهو شامل للشاب والشيخ……. الخ
فتاوى قاضيخان (1/ 217-209):
فإن كان للرجل والدة أو أخت أو ولد من غيرها في منزلها، فقالت: صيرني في منزل على حدة، كان لها ذلك؛ لأنها لا تأمن على متاعها، وتستحي عن المعاشرة إذا كان البيت واحداً. فإن كانت داراً فيها بيوت وأعطى لها بيتاً تغلق وتفتح، لم يكن لها أن تطلب بيتاً آخر، إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها. ……. وليس عليها أن تعمل بيدها شيئاً لزوجها قضاءً من الخبز والطبخ وكنس البيت وغير ذلك.
الفتاوى البزازية (2/ 25):
المنكوحة أو المعتدة أبت الخبز والطبخ إن بها علة أو من بنات الأشراف يأتي الزوج بمن يطبخ لها، وإن كانت ممن تخدم نفسها تجبر، قال السرخسي: لا تجبر، لكن لا يعطى لها الإدام في الصحيح، والمذكور في المنتقى أنها لا تجبر على الخدمة في جواب ظاهر الرواية، والفتوى على ما ذكرناه.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
18/جمادی الآخرۃ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


