| 78900 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرے شوہر نے مجھے ایک ساتھ ہی تین طلاق دیدی ہیں، اس طرح انہوں نے تین بار طلاق طلاق طلاق کہا مجھے، اور ساتھ ہی ایک بار پھر کہہ دیا کہ میں نے آپ کو طلاق دی۔ اب وہ اور ان کے گھر والے کہ اس طرح طلاق نہیں ہوتی؛ کیونکہ اس وقت ہم دونوں میاں بیوی اکیلے تھے اور کوئی گواہ نہیں تھا۔ اب میرے شوہر کہہ رہے ہیں کہ میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں نے دو بار بولا ہے، ان کی فیملی کہہ رہی ہے آپ اس طرح اس کے ساتھ رہ سکتی ہیں، آپ پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔آپ میری راہنمائی فرمادیں کہ اس طرح میں ان کے ساتھ رہ سکتی ہوں؟ اور کیا اس طرح طلاق بھی نہیں ہوتی یا ہوجاتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ تین طلاق ایک ساتھ دینا گناہِ کبیرہ ہے جس سے اجتناب لازم اور ضروری ہے، لیکن اگر کوئی ایک ساتھ تین طلاق دیدیں تو وہ تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ نیز طلاق واقع ہونے کے لیے گواہوں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب آپ کے شوہر نے آپ کو تین بار طلاق طلاق طلاق کہہ دیا تو اس سے آپ پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور آپ دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے، نہ تحلیل کے بغیر دوبارہ نکاح۔ اب آپ کے لیے اس کے ساتھ رہنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } الآیة [البقرة: 230]
صحيح البخاري (7/ 42):
حدثنا سعيد بن عفير قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن ابن شهاب قال أخبرني عروة بن الزبير أن عائشة أخبرته أن امرأة رفاعة القرظي جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! إن رفاعة طلقني فبت طلاقي وإني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي، وإنما معه مثل الهدبة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لعلك تريدين أن ترجعي
إلی رفاعة، لا، حتی یذوق عسیلتك وتذوقي عسیلته.
حدثني محمد بن بشار حدثنا يحيى عن عبيد الله قال حدثني القاسم بن محمد عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول.
الدر المختار (3/ 232):
( والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين ) في طهر واحد ( لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه ، أو ) واحدة في ( حيض موطوءة ).. الخ
رد المحتار (3/ 232,233):
( قوله والبدعي ) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر. ( قوله ثلاثة متفرقة ) وكذا بكلمة واحدة بالأولى ، وعن الإمامية : لا يقع بلفظ الثلاث ولا في حالة الحيض لأنه بدعة محرمة ….وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث…….( قوله في طهر واحد ) قيد للثلاث والثنتين ….الخ
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
18/جمادی الآخرۃ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


