| 79183 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
میرے والد محمد کمال کا انتقال ہوگیا ہے ،ورثاء میں گیارہ لڑکے ، آٹھ لڑکیاں اور ایک بیوہ موجود ہیں ، انہوں نے پہلی بیوی کی اولاد میں سے چھ لڑکوں کو جن میں سے تین بالغ اور تین نابالغ تھے ،اپنی زندگی میں چھ لاکھ روپے دئے تھے اور ان کو اپنے سے جدا کردئے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آیندہ تمہیں مال نہیں ملے گا ،باقی سارا مال دوسری اولاد کا ہے، اس کے بعد دوسری بیوی کے ساتھ زندگی گذارتے رہے ،جبکہ بچوں کو جدا کرتے وقت والد صاحب کڑوڑوں کی جائداد کے مالک تھے ،اب سوال یہ ہے کہ اس جائیداد میں تمام لڑکے اور لڑکیوں کا حق ہوگا یاصرف انہی اولاد کا حق ہے جن کے ساتھ آخری وقت میں زندگی گذاری یعنی ہماری چھوٹی والدہ اور ان کی اولا د جن کے گھر میں انتقال ہوا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکردہ تفصیل کے مطابق محمد کمال کے ورثاء میں گیارہ لڑکے ،آٹھ لڑکیاں اور ایک بیوہ شامل ہیں ، ان میں سے چھ لڑکوں کو زندگی میں چھ لاکھ روپے دے کر اپنے سے جدا کردیا تھا ،ان لڑکوں سمیت تمام ورثاء محمد کمال کی میراث کے حقدار ہیں ۔باپ کا یہ کہنا کہ باقی مال دوسری اولاد کا ہے شرعا اس کا اعتبار نہیں ہوگا ۔اورمیراث کو شرعی ضابطہ کے مطابق تمام ورثا ء میں تقسیم کیاجائے گا ۔
تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم نے بوقت انتقال منقولہ غیرمنقولہ جائیداد ، سونے چاندی ،نقدی اور چھوٹا بڑا جوبھی سامان اپنی ملک میں چھوڑا ہے ، سب مرحوم کا ترکہ ہے اس میں سے اولا کفن دفن کا متوسط خرچہ نکالا جائے ، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ کسی کاقرض ہو وہ ادا کیاجائے ، اس کے بعد مرحوم نے کسی کےلئے کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال کی حد تک اس کو نافذ کیاجائے اس کے بعد مال کو مساوی آٹھ حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ بیوہ کو دیاجائے, بقیہ سات حصوں کو توڑ کر مساوی 30حصوں میں تقسیم کرکے گیارہ لڑکوں میں سے ہر ایک کو دودو حصے اور آٹھ لڑکیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک حصہ دیاجائے گا ۔یعنی سوروپے میں بیوی کو ساڑھے بارہ روپے،اور ہر ہر لڑکے کو پانچ روپے تریاسی پیسے ، اور ہرلڑکی کو دوروپے اکیانوے پیسے ملیں گے۔
فیصدی تناسب سے ، ہرایک کاحصہ حسب ذیل ہے
بیوہ کا حصہ = ٪ 5 .12
گیارہ لڑکوں میں سے ہرایک کا حصہ = ٪ 833 . 5
آٹھ لڑکیوں میں سے ہرایک کا حصہ = ٪9166 . 2
حوالہ جات
{لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا [النساء: 7، 8]
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 514)
قال: "ولا تجوز لوارثه" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث" ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم ولأنه حيف بالحديث الذي رويناه، ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية لأنه تمليك مضاف إلى ما بعد الموت، وحكمه يثبت بعد الموت.
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲رجب ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


