| 79237 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
محترم مفتی صاحب! میں آفتاب شوکت (پاکستانی) ہوں، ہوازہونگ زرعی یونیورسٹی، ووہان، چین میں پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ فیلو ہوں۔ میرا معاہدہ جلد ہی ختم ہو جائے گا، اور میں نئے پوسٹ ڈاکس یا نوکری کی تلاش کر رہا ہوں۔ مجھے پہلے ہی ملازمت کا موقع مل گیا ہے،وہ سور کی تولیدی اور سانس کے سنڈروم وائرس پر قدرتی مصنوعات/ جڑی بوٹیوں کی ادویات کے اثر پر کام کر رہے ہیں۔ اس تحقیق میں انہیں لیبارٹری میں خنزیر کے خلیات کو کلچر کرنا/بڑھانا ہے اور مختلف جڑی بوٹیوں کی دوائیوں کے حفاظتی اثر کو تلاش کرنا ہے۔تحقیق کو بڑے پیمانے پر سور کی صنعت میں استعمال کیا جائے گا۔(۱) میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں یہ کام کر سکتا ہوں؟ برائےکرم میری تفصیل سے رہنمائی کریں یا مجھے ایک متبادل ملازمت کی تلاش کرنی چاہیے (کیونکہ میرے پاس تلاش کرنے کے لیے مزید 2-3 مہینے ہیں) اور شاید اس متبادل ملازمت کی تنخواہ کم ہوگی۔(۲) برائےکرم مجھے کوئی اچھا متبادل کام تلاش کرنے کے لیے کوئی عمل بتائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔اس عمل سے مقصود چونکہ (بحیثیت ایک جانور ہونے کے)خنزیر کا علاج دریافت کرنا ہے، لہذااس لحاظ سے یہ عمل جائز ہے اور اس پر اجرت لینا بھی جائز ہے ،لیکن اس عمل سے بالواسطہ مقصود چونکہ خنزیر کو استعمال کرنے والوں کا خنزیر کی نسل کو بڑھانا اور محفوظ بنانا ہے، اس لیے اس لحاظ سے اس میں شرکت کراہت سے خالی نہیں۔
۲۔ ہر روز فجر اور مغرب کی نماز کے بعدسنن اور نوافل ومسنون اذکار سے فارغ ہونے کے بعد بات کرنے سے پہلے اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھ کر سو سو مرتبہ یا وھاب اور یا فتاح پڑھا کریں انشاء اللہ تعالی متبادل ومناسب روز گار مل جائے گا۔
حوالہ جات
فتاوى قاضيخان (2/ 169)
وكذا الاستئجار لرعي الخنازير
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 392)
ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۸رجب۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


