| 79215 | نماز کا بیان | سنتوں او رنوافل کا بیان |
سوال
۱۔ میرا سوال ہے کہ جمعہ کے دن جب مسجد میں اجتماعی دعا ہوتی ہے جو کہ حدیث سے ثابت نہیں ،توجب امام دعا مانگےاور مقتدی آمین کہیں توکیا ہم چپ چاپ بیٹھ سکتے ہیں؟کیونکہ اجتماعی دعا کا ثبوت نہیں، اگر ثابت ہے تو برائے مہربانی صحیح حدیث کاحوالہ بتلائیں؟
۲۔ اور جب 5 وقت کی نماز میں امام پانچ وقت بھی دعا کرتے ہیں نماز کے بعد تو اکثر لوگ امام کے ساتھ ہاتھ اٹھاتے ہیں اور جب امام ہاتھ نیچے گراتے ہیں تب تک امام کے ساتھ دعا مانگتے ہیں تو کیا اسکا کوئی ثبوت ہے؟
۳۔15 شعبان کا روزہ ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے 1388 نمبرحدیث جو حضرت علی سے رضی اللہ عنہ سے ہے جو مفتی تقی عثمانی ااور کراچی کے مفتی طارق مسعود ضعیف بتاتے ہیں اور کہتے ہیں اسکا روزہ رکھنا سنت سمجھ کر بدعت ہے تو ہمارے یہاں کے لوگ یہ روزہ رکھتے ہے،جبکہ نہ یہ فرض، نہ ہی واجب، نہ سنت ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مستحب ہے، جب حدیث ضعیف ہے تو مستحب کیسے؟
۴۔نماز عشاء میں 6 رکعت 4 فرض 2 سنت یہ تو صحیح حدیث سے ثابت ہے باقی 3 وتر جو رات کی نماز ہے اُنھیں عشاء میں ملاکر 9 رکعت بن گئی. اس پر بھی مفتی طارق مسعود صاحب کہتے ہیں کہ عشاء کی 6 رکعت ہے اور 3 وتر رات کے باقی تو ایسے ہے جیسے کہتے ہے 2 نمازوں کے درمیان نماز ہے چاہئے کوئی 15 پڑھے 17 پڑھے 20 پڑھے, اسکے علاوہ جو کہتے ہیں عشاء میں 17 رکعت ہے کیا یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے؟ برائے مہربانی تفصیل سے حدیث کے ساتھ جواب دیں۔
۵۔ایک کمپنی ہے جسے پوما کہتے ہیں، اس کا ایک نشان ہے چیتا جسکی آنکھ ناک نہیں show ہوتی اگر وہ لوئر یہ شرٹ پر ہو تو کیا نماز ہو جائیگی؟ اور اگر نہیں تو کیا اس کا چہرہ ہٹا دینے سے نماز درست ہو جائیگی ?
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱ و۲۔کسی حدیث سے نماز جمعہ یا کسی بھی فرض نماز کے بعدمروجہ اجتماعی دعا ثابت نہیں، البتہ دیگر نصوص عامہ سے فرض نمازوں کےبعدمنفرد، امام اور مقتدی سب کے لیےدعا کرناثابت اورسنت ہےاورجماعت سے پڑھی گئی فرض نمازوں کےبعداس پرعمل کرنے کی وجہ سےخودبخودضمنی طور پر اجتماع ہوجائے گا،لیکن چونکہ یہ ایک ضمنی چیزہے،لہذااس کےلیےمستقل دلیل کامطالبہ درست نہیں،لہذافرائض کےبعداجتماعی دعاء کاچونکہ فی الجملہ ثبوت ہے،لہذا خاص اس اجتماع کو سنت سمجھے بغیر اگر کوئی اجتماعی دعا کرتا ہے تو اس کوعلی الاطلاق بدعت کہنادرست نہیں۔
۳۔اس روزہ کے مستحب ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے،اس بارے میں صرف ایک روایت ملتی ہےجو ابن ماجہ میں ہے اور ضعیف ہے،بعض اہل علم نے اس سے شعبان کے روزہ کے سنیت یا استحباب ثابت ہونےکا انکار کیا ہے،جبکہ بعض اہل علم کے نزدیک اس کا ضعف قابل تحمل ہے،لہذااس سے اس دن کے روزے کا استحباب ثابت ہوتاہے،لہذا اگر کوئی خاص اس دن کا روزہ رکھتا ہےتوباعث ثواب ہے۔اختلاف کے پیش نظر بہتر یہ ہے کہ اس دن کا روزہ ایام بیض کے روزں کے ضمن میں رکھا جائے یا اس دن کی خصوصی فضیلت کےنظریہ کے بغیر مطلق شعبان کی روزہ کی حیثیت سے اس دن رکھ لیا جائے۔
۴۔عشاء کی نماز مع سنن ونوافل سترہ رکعات ہونا کسی حدیث سےصراحۃ ثابت نہیں،البتہ بعض روایات سے سترہ ہونا معلوم ہوتا ہے، لہذا چار فرض اوراس کےبعد دو سنت مؤکدہ ہونااور اس کے علاوہ چار رکعات سنت غیر مؤکدہ کاعشاء کے فرضوں سے قبل اور دورکعت کافرضوں کے بعدہونا اورمزیددو رکعت نفل کاہونا بعض روایات سے ثابت ہے، جن کا مجموعہ چودہ رکعات بنتی ہیں اورتین رکعات وتر اگر چہ مستقل نماز ہے ،لیکن عشاء کے بعد اس کی تین رکعات سے مجموعہ سترہ رکعات ہوجاتا ہے ۔
وتر کے بعد راجح قول کے مطابق دو رکعات کا ثبوت بطور نفل ومستحب کے تو نہیں، البتہ اگر کوئی پڑھتا ہے تو جائز ہے، لہذا ان کوعشاء میں شامل نہیں کیا جائے گا،اس لیے کہ تحقیق یہی ہے کہ وتر کے بعد کوئی مستقل نفل نماز مستحب نہیں،بلکہ مستحب اور افضل یہ ہے کہ وتر کی نماز نوافل وتہجد کے بعد بالکل آخر میں ہو۔(احسن الفتاوی:ج۳،ص۴۹۹)
۵۔جب چہرہ کےاعضاءواضح نہیں تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ نماز پڑھناجائز ہے، البتہ اگر یہ خود نمازی کے لیے یا دوسرے نمازیوں کی توجہ کےلیے تشویش کاباعث ہوتو ایسی صورت میں اس میں نمازپڑھنا مکروہ ہوگا۔
حوالہ جات
الھدایۃ مع فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 442)
وأربع قبل العشاء، وأربع بعدها، وإن شاء ركعتين) والأصل فيه قوله - عليه الصلاة والسلام - «من ثابر على ثنتي عشرة ركعة في اليوم والليلة بنى الله له بيتا في الجنة» وفسر على نحو ما ذكر في الكتاب،۔۔۔۔۔ولم يذكر الأربع قبل العشاء فلهذا كان مستحبا لعدم المواظبة، وذكر فيه ركعتين بعد العشاء، وفي غيره ذكر الأربع فلهذا خير،إلا أن الأربع أفضل خصوصا عند أبي حنيفة - رحمه الله - على ما عرف من مذهبه،
(قوله والأصل فيه) أي في استنان هذه المذكورات قوله - صلى الله عليه وسلم - إلخ.
روى الترمذي وابن ماجه عن مغيرة بن زياد عن عطاء عن عائشة - رضي الله عنها - قالت: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «من ثابر على اثنتي عشرة ركعة من السنة بنى الله له بيتا في الجنة، أربع ركعات قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء، وركعتين قبل الفجر» فاتضح أن ضمير فسر المرفوع للنبي - صلى الله عليه وسلم -.
ثم الذي يقتضيه النظر كون الأربع بعد العشاء سنة لنقل المواظبة عليها في أبي داود عن شريح بن هانئ قال: «سألت عائشة - رضي الله عنها - عن صلاة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقالت ما صلى العشاء قط فدخل بيتي إلا صلى فيه أربع ركعات أو ست ركعات، ولقد مطرنا مرة من الليل فطرحنا له نطعا فكأني أنظر إلى ثقب فيه ينبع منه الماء وما رأيته متقيا الأرض بشيء من ثيابه» وهذا نص في مواظبته - صلى الله عليه وسلم - على الأربع دون الست للمتأمل
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۷رجب۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


