| 79235 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
اشیاء خوردونوش امارات(یو اے ای) میں درآمد کرنے کے دو طریقے ہیں: ایک تو پروسیسنگ کرنے کے نام سے منگوایا جائے اور دوسرا تجارت کی غرض سے منگوایا جائے، پروسیسنگ کرنے کی غرض سے اگر اشیاء درآمد کی جائے تو حکومت کی جانب سے ٹیکس نہیں لیا جاتا اور اگر تجارت کی غرض سے منگوایا جائے تو ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ تجارت کرنے والی اشیاء کو، جس میں کسی قسم کی پروسیسنگ نہیں ہوتی، اس کو پروسیسنگ کے نام سے اس لئے منگوایا جائے کہ ٹیکس سے بچ سکیں، کیا یہ طریقہ ہمارے لئے درست ہے جبکہ دونوں شعبے (پروسیسنگ اور تجارت) ایک ہی ادارے کے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام حالت میں جھوٹ اوردھوکہ دہی اورقانون کی خلاف ورزی کے باعث ایسا کرناجائز نہیں،البتہ جہاں ٹیکس ظالمانہ حد تک بڑھا دیا جائےیا حکومتی غفلت کے باعث اس کے در آمد کے اخراجات بڑھتے ہوں جس سے در آمد کردہ چیز تجارت کے نام سے منگوانے سے اس کی تجارتی منافع متعلقہ مارکیٹ میں بالکل معدوم ہوں یاعرف کے مطابق نہ ہونے کے برابر ہوں توایسی صورت میں دفع ضرر کی نیت سے گول مول بات کرکے غیر منصفانہ ٹیکس کو اس حد تک بچانے کی گنجائش ہوگی کہ وہ منصفانہ ٹیکس کی حدمیں آجائے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۸رجب۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


