03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کر کے بعد میں بطورِ انعام دینا
80367اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

ایک شخص یا ادارے کی جانب سے کسی استاذ کی مثلا 22,000 روپے تنخواہ مقرر کی جاتی ہے، جبکہ وہ ادارہ پس ماندہ علاقے میں واقع ہے اور وسائل کی کمی ہے۔ اگر وہ ادارہ یا شخص اس تنخواہ میں سے کچھ رقم روک لے اور پھر اس استاذ کو اچھی کارکردگی دکھانے پر بطورِ اضافہ دے تو کیا یہ جائز ہے؟  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ طریقہ جائز نہیں؛ کیونکہ استاذ نے جب اپنی ذمہ داری پوری کی تو وہ اسی وقت اپنی پوری تنخواہ کا مستحق ہوگیا۔ اب اگر ادارہ اس کی تنخواہ میں سے کچھ رقم روک کر بعد میں اپنی طرف سے حوصلہ افزائی کے نام سے دیتا ہے تو اس میں دو خرابیاں لازم آتی ہیں: ایک ملازم کی تنخواہ بلاوجہ روکنا، جو کہ جائز نہیں۔ دوسرا اس سے بڑھ کر دھوکہ دہی اور خیانت، کہ ملازم کو یہ رقم دے کر باور کرایا جاتا ہے کہ ادارے نے اسے اچھی کارکردگی کا الگ سے انعام دیا، حالانکہ وہ وہ رقم ملازم کی اپنی ہی ہوتی ہے۔

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       20/ ذو القعدۃ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب