| 80403 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرے ابو کے برابر برابر میں چار پلاٹس تھے، جن میں سے ایک میری والدہ کا حق مہر تھا اور تین مالِ میراث تھے۔ وہ سب ایک ساتھ کرایہ پر دیے ہوئے ہیں۔ اب ایک خریدار کو وہ جگہ پسند آگئی تو اس نے قیمت طے کرنے کے بعد ایک معتد بہ رقم بیعانہ کے طور پر دے دی، ہم نے اس کا مطالبہ نہیں کیا تھا، اس نے کہا کہ اس طرح اسے آسانی رہے گی کہ کچھ رقم وہ ابھی ادا کر دے اور باقی رقم کرایہ دار کے جانے کے بعد جب سودا مکمل ہوگا اور جگہ اس کے حوالے کی جائے گی اس وقت کر دے گا۔ ہم نے حاصل شدہ رقم سے سب سے پہلے والدہ کے مہر کا جو پلاٹ تھا اس کی قیمت کے بقدر رقم والدہ کے حوالہ کر دی اور باقی ماندہ رقم کو وراثت میں سب کے حصوں کے تناسب سے کچھ نہ کچھ سب کو دے دیا (اس تقسیم میں والدہ کو بھی شامل کیا)۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ
۱۔کیا خرید و فروخت کا سودا پکا ہو جانے کے بعد بھی ہمارا کرایہ دار سے کرایہ لینا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خرید و فروخت کا سودا پکا ہونے سے مراد مستقبل میں خرید و فروخت کرنے کا پختہ وعدہ ہے۔ خرید و فروخت کے احکام سودا پورا ہونے کے بعد لاگو ہوتے ہیں، لہذا حقیقی خرید و فروخت ہو جانے سے پہلے پہلے ملنے والا کرایہ آپ کی ملکیت ہے اور آپ کے لیے اسکا لینا درست ہے۔
حوالہ جات
فقه البيوع للشيخ محمد تقي العثماني:(ج:۱ص:۱۱۹)
جرت العادة في بعض البلاد أن المشتري يقدم مبلغاً من الثمن إلى البائع قبل إنجاز البيع، وذلك لتأكيد وعده بالشراء. ويسمى في العرف "هامش الجدية"، أو "ضمان الجدية " (وإن لم يكن ضماناً بالمعنى الفقهي) فهذه الدفعات ليست عربوناً، وإنما هی أمانة بيد البائع، تجرى عليه أحكام الأمانات. ولا يجوز لأخذها أن يتمولها لنفسه، ولايجوز استثمارها إلا بإذن مالكها، بشرط أن يكون الربح له، وكذلك يجب رد هذا المبلغ إليه إن لم يتم إنجاز العقد معه. فلا يجوز للأخذ أن يمسكها في هذه الحالة۔
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
23 ذو القعدہ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


