| 80387 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
الحمد للہ میں پانچ وقت کا نمازی ہوں ، مجھ سے گناہ سر زد ہوگیا میں ایک مساج سنیٹر چلاگیا ، اور میں ایک لڑکی سے مساج کرایا ، میں سیکس تو نہیں کیا لیکن لرکی نے مجھے ٹچ کیا اور میں نے لڑکی کو ٹچ کیا ،لیکن جب میں گھر آیا تو اس مساج سینٹر کی پیمنٹ سلپ میرے وائف کے ہاتھ لگ گئی ، میں نے اپنے رشتے کو بچانے کے لئے کلمہ پڑھ کر جھوٹ بولا کہ میں نے لڑکے سے مساج کرایا ہے لڑکی سے نہیں ،اس کے بعد میں کفارہ بھی دیا کہ 60 مسکینون کو کھانا کھلانے کے لئے ریسٹو رینٹ والوں کو پیسے بھی دئے ، اللہ سے میں بہت معافی مانگی ،شرمندہ بھی بہت ہوں ،
اب سوال یہ ہے کہ میں نے اس فعل سے توبہ کرلی تو کیا اللہ مجھے معاف فرمائے گا ؟ میں نے جو کلمہ پڑھ کر جھوٹی قسم کھائی ہے بعد میں کفارہ بھی ادا کیا تو کفارہ ادا ہو ا ہے یا نہیں ؟اور کیا میرانکاح بر قرار ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح ہوکہ مساج سینٹر میں بہت سی دینی ،اخلاقی اورمعاشرتی برائیاں پائی جاتی ہیں ،1۔ مثلا اجنبی مرد اور عورت کا تنہائی میں بیٹھنا جو قرآن وحدیث کی روسے حرام ہے ، 2۔پھر مساج کے لئے اجنبی مرد کے جسم کو ہاتھ لگانا یہ زناکاری میں مبتلا ہونے کا سبب اور ذریعہ ہونے کی بناء حرام اور ممنوع فعل ہے ، اس طرح مرد وزن کے بے محابا اختلاط کے نتیجے میں اکثر مرد اور عورت میں ناجائز تعلقات قائم ہوجاتے ہیں ،پھر اس تعلق کے نتیجے میں دونوں خاندانوں کے آپس میں لڑائی جھگڑے قتل وقتا ل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ،جوآئے روز اخبارات اوردیگر ذرائع ابلاغ سے سامنے آتے رہتے ہیں ، مساج سینٹر کی یہ برائیاں کسی ذی شعور انسان پر مخفی نہیں ہے ،لہذا مساج سینٹر کے نام پرفحاشی اور بدکاری کا اڈا کھولنا اور مساج کے لئے کسی کا ایسے اڈوں میں جانا ناجائز اور حرام ہے ،اس سے توبہ اور استغفار کرنا لازم ہے ، اور حکومت کی ذمے داری ہے کہ مساج سینٹروں پر فوری پابندی عائد کرکے ایسے سینٹروں کو بند کروادے ۔ تاکہ قوم بے حیائی کے عذاب سے محفوظ رہے۔
اس تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات یہ ہیں ،
1۔جب کسی بندہ سے کوئی گناہ سر زد ہوجائے اوراس کے بعد اللہ تعالی کے سامنے سرمندہ ہو کرسچی توبہ کرلیتا ہے،
تو اللہ تعالی اس بندے کو معاف کردیتا ہے ،لہذا چونکہ آپ نے سچی توبہ کرلی ہے تو اللہ تعالی کی ذات سے عفو ء وکرم کی امید رکھیں زیادہ پریشان نہ ہوں بس توبہ پر قائم رہنے کی کوشش کریں آیندہ اس گناہ کے قریب بھی نہ جائیں ۔
2۔اس مسئلہ میں آپ پر کفارہ لازم تو نہیں تھا تاہم آپ نے کفارہ کے نام صدقہ کیا ،اللہ تعالی اس کو بھی قبول فرما لیں گے ان شاء اللہ تعالی ،
3۔ اگر اس مسئلہ میں آپ نے کوئی طلاق نہیں دی ہے صرف قسم ہی کھائی ہے تو آپ کا نکاح برقرار ہے ،صرف کلمہ پڑھ کر قسم کھانے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔
حوالہ جات
مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 206)
وعن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان " . رواه الترمذي
مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 203)
وعن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إياكم والدخول على النساء فقال رجل : يا رسول الله أرأيت الحمو ؟ قال : " الحمو الموت "
مشكاة المصابيح للتبريزي (1/ 19)
وفي رواية لمسلم قال : " كتب على ابن آدم نصيبه من الزنا مدرك ذلك لا محالة فالعينان زناهما النظر والأذنان زناهما الاستماع واللسان زناه الكلام واليد زناها البطش والرجل زناها الخطا والقلب يهوى ويتمنى ويصدق ذلك الفرج ويكذبه "
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۲ ذی قعده ۱۴۴۴ه
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


