| 80435 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری شادی دسمبر 2019 میں ہوئی تھی، شادی کے بعد سے ہی گھر میں اور میری بیوی میں جھگڑے چلتے رہتے تھے،جھگڑے اتنے بڑھ گئے کے میں افسردہ (ڈیپریشن میں مبتلا) ہونے لگا، دونو طرف سے مجھے باتین سنے کو ملتی، پھر آخر کار 16 اکتوبر 2022 کو میں نے خودکشی کی کوشش کی،تاہم اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی دی اور میں بچ گیا، جب سے پتہ چلا کہ میں نے خودکشی کی ہے تب سے میرے گھر والو کا مجھ پر دباؤ تھا کہ اپنی بیوی کو طلاق دو،اسی کی وجہ سے تم نے خودکشی کی کوشش کی ہے، میں اس وقت کچھ حد تک راضی بھی ہو گیا تھا، لیکن میرا دل نہیں مانتا تھا،پھر اس کے بعد میں نے اپنا علاج کرایا جس میں میری نفسیاتی رپورٹ بنی، اس میں ڈپریشن وغیرہ جیسی بیماریاں سامنے آئی،ساتھ ہی یہ کہ میں اپنے ساتھ رہنے والے کسی کو نہیں چھوڑ سکتا اور کسی بھی ایک کے ساتھ علیحدہ ہونے کے ڈر سے میں نے خودکشی کی، مجھے ہر طرف کی حقیقت کو دیکھنا تھا اور پھر فیصلہ کرنا تھا تو میں نے فیصلہ یہ کیا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دونگا،پھر میں نے گھر پربات کی لیکن وہاں کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھا، میری بہن بھائی امّی کوئی نہیں سن رہاتھا، بھائی نےکہاکہ جس دن تم اس کے ساتھ گئے تو میں خودکشی کرلونگا، امّی کہتی ہے کہ میں مرجاؤگی، بہن کہتی ہےکہ ہم نہیں چھوڑیں گےتمہیں اس کے ساتھ،مجھ پر کافی دباؤ ڈالا گیا اتنا کہ میں پھر سوچنے لگا کے میں مر جاتا تو زیادہ اچھا ہوتا، پھر اتنے میں میرے عمرہ پر جانے کا کام ہوگیا،میں نے سوچا کہ تھوڑا وقفہ آجائے گا تو معاملہ اچھا ہوجائے گا،لہذا میں بات ٹال کر نکل گیا، اورکہاکہ واپس آکرمیں بات کرونگا،اس نیت کے ساتھ وہاں گیا کہ جاکر دعا کرونگا، میرا اللہ حل کردے گا، جب میں عمرہ سے واپس آیا تو میرے سے پوچھاگیا کہ کیا کرنا ہے؟ تو میں نے جیسے ہی بولا کہ میں طلاق نہیں دے رہا ہوں تو میرے بھائی نے مجھے بولا کے فوری گھر سے نکل جاؤ اور سب نے بات کرنا بند کردی،اور بولا کہ ہماری لاش اٹھا نے آؤگےتم،توخیرمیں نے 2 دن انتظار کیا پھر بات کی مگر وہ بالکل راضی نہیں تھے،میں نے بار بار بولا کے کوئی راستہ نکالو توکہاکہ نہیں، جانا ہے تو جاؤ اور دوبارہ ہمارے جنازے میں بھی نہ آنا،جس دن نکل کر گئے اس دن سب ختم پھر میں نے بہت افسردگی محسوس کی، ایک دن بعد عشاء میں نے وہ (طلاق کے) پیپر اٹھا ئے اوربھائی کے پاس گیا اور سائن کر کے دیا،اب میرے گمان میں یہ تھا کے جب تک میں زبان سے ادا نہیں کرونگا طلاق نہیں ہوگی جیسا نکاح میں ہوتا ہے، میں نے ان کا انتظار کیا کہ وہ کچھ نرمی کریں گے، تاہم ابھی بھی دھمکیاں دیں رہے تھے تو میں مجبور ہوا میرا دل طلاق دینے کی ا جازت نہیں دے رہا تھا اور دِماغ اِتنا مفلوج تھا کہ ذہن یہ فیصلہ کر رہا ہے کہ نقصان کہاں کم ہوگا؟ پھر میں انتظار ہی کر رہا تھا کہ دو گواہوں نے آ کر دستخط کئے اور میں انتظار کرتا ہی رہ گیا کہ ابھی زبان سے ادا کرنا ہوگا،لیکن کوئی بات نہیں ہوئی، پھر میں نے ایک حضرت سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی طلاق ہو گئی ہے، تب میں بہت پریشان ہوگیا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہوگیا اور اللہ سے شکوہ بھی کیاکہ میں نے آپ سے مانگا آپ نے میرے ذہن میں یہ کیا بات ڈال دی؟ پھرفوراً معافی مانگی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ جو اللہ نے کیا ہے وہ صحیح ہوگا۔ پھر میں ہر نماز میں مغفرت اور اپنی بیوی کے لیے دعا کرتا ہوں،میں اب قبول کر چکا تھا کہ میری طلاق ہوگئی ہے،لیکن دل نہیں مانتا تھا 5.6.2023 کی رات کو میں ویڈیو اسکرول کر رہا تھا کہ مفتی طارق مسعود کی ذہنی جبری طلاق پر ویڈیو دیکھی تو پھر میں نے آپ کے یہاں رابطہ کیا،اب میں یہ صحیح طور پر معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میری طلاق کا کیا معاملہ ہے؟ مجھے خوشی ہوگی اگر میری طلاق نہیں ہوئی، لیکن اگر ہوئی ہو تو بھی اللہ کی مصلحت ہوگی اور اگر میری طلاق نہیں ہوئی تو کیا میں آگے ایسے ہی چھپا کے خفیہ طور پر بیوی کورکھ سکتا ہوں؟ میں نہیں چاہتا کہ مجھ پرپھردباؤ ڈالا جائےیالوگوں کی نظروں میں آجاؤں، میں اپنی بیوی کے حق ادا کرونگا پہلے بھی پورے خاندان میں یہ بولاجاتاتھاکہ دیکھو یہ میاں بیوی کیسے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ بات درست ہے کہ زبردستی میں اگرطلاق نامے پرکوئی دستخط کردے اورزبان سے کچھ نہ کہے تووہ تحریری طلاق واقع نہیں ہوتی مگرزبردستی سے مراد یہاں پر شرعی اکراہ ہےجس کی دو قسمیں ہیں ،ایک ملجئی جس میں جان سے مارنے یا کسی عضو کے تلف کرنے کی دھمکی دے کر طلاق دینے پر مجبور کیاجائےاوردوسری غیرملجئی جس میں مارپیٹ یا جیل میں ڈالنے کی دھمکی دیکرطلاق پر مجبورکیاجائے،دونوں قسموں میں دیگر شرائط کے علاوہ دھمکی اوریہ یقین ضروری ہے کہ اگرمتعلقہ کام نہیں کیاگیاتو دھمکی دینے والااپنی دھمکی (جس پر اس کوقدرت بھی ہے) نافذ کردے گا۔
مسئولہ صورت میں قطع تعلقی کےباوجود اگرآپ اپنے سہارےزندگی گزارنے کے قابل تھےتوپھریہ دھمکی کوئی شرعی اکراہ نہیں ہے، اس لیےکہ انسان بالعموم ان مواقع پربڑوں کاحکم ان کی ناراضگی سے بچنے کےلئے اوران کےاکرام کی خاطراوربدنامی سے بچنے کےلیے مانتاہے جوکہ شرعی اکراہ میں داخل نہیں ہے،لہذا اس صورت میں شرعی اکراہ نہ ہونے کی وجہ سے منسلکہ طلاق نامہ میں موجود تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوجائے گی،اور بحالتِ موجودہ نہ میاں بیوی میں رجوع ہوسکےگا اورنہ ہی حلالہ کے بغیر نیا نکاح ،اس صورت میں آپ اپنی سابقہ بیوی کو نہیں رکھ سکتے، نہ سامنے اورنہ ہی خفیہ طورپر۔
لیکن اگرآپ کےلیے الگ ہوناناقابلِ تحمل مشکل کا باعث تھاتوپھر یہ شرعی اکراہ ہے اوراس صورت میں لکھی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوئی بشرطیکہ زبان سے طلاق کے الفاظ نہ بولے ہوں۔
حوالہ جات
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):
"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".
وفی الھندیة:
"( وأما ) ( أنواعه ) فالإكراه في أصله على نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجئ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد" .(35/5)
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 128):
الإكراه. (هو لغة حمل الإنسان على) شيء يكرهه وشرعا (فعل يوجد من المكره فيحدث في المحل معنى يصير به مدفوعا إلى الفعل الذي طلب منه) وهو نوعان تام وهو الملجئ بتلف نفس أو عضو أو ضرب مبرح وإلا فناقص وهو غير الملجئ. (وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا (فلو أكره بقتل أو ضرب شديد) متلف لا بسوط أو سوطين إلا على المذاكير والعين بزازية (أو حبس) أو قيد مديدين بخلاف حبس يوم أو قيده أو ضرب غير شديد إلا لذي جاه درر (حتى باع أو اشترى أو أقر أو آجر فسخ) ما عقد ولا يبطل حق الفسخ بموت أحدهما ولا بموت المشتري، ولا بالزيادة المنفصلة، وتضمن بالتعدي وسيجيء أنه يسترد وإن تداولته الأيدي (أو أمضى) لأن الإكراه الملجئ، وغير الملجئ يعدمان الرضا، والرضا شرط لصحة هذه العقود وكذا لصحة الإقرار فلذا صار له حق الفسخ والإمضاء (قوله: يعدمان الرضا) قال ابن الكمال في هامش شرحه، أخطأ صدر الشريعة في تخصيصه إعدام الرضا بغير الملجئ اهـ.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 16 / ص 253)
والاكراه بحبس الوالدين والاولاد لا يعد إكراها لانه ليس بإكراه ولا يعدم الرضا بخلاف حبس نفسه.
وفی بدائع الصنائع:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة۔ (3/187، فصل في حكم الطلاق البائن، کتاب الطلاق)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۲۲/١١/١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


