| 80432 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں گلشن اقبال کراچی کارہائشی ہوں اور میرے اورمیرے بیوی اریبہ ساجد بنت ریحان مختارکے سے گھریلوں لڑائیاں چھوٹی چھوٹی بات پرچلتی رہتی ہیں اورمیں اکثر ٕغصے میں اپنی بیوی اریبہ کو طلاق کی دھمکی بھی دے دیا کرتاہوں،لیکن کبھی بھی میں نے طلاق کا اقرارزبان سے نہیں کیا،لیکن کچھ دن پہلے مورخہ یکم جون 2023ءکو میرےاورمیری بیوی کے درمیان لڑائی ہوئی جس کی وجہ سے میں نے اس کو ایک مرتبہ طلاق دیدی اور طلاق کے الفاظ یہ تھے "میں اللہ کو حاضر ناظرجانتے ہوئے طلاق دیتاہوں" جس کے گواہ بھی موجود ہیں ،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میری بیوی اریبہ کہتی ہے کہ تم نے تین مرتبہ طلاق دی ہے، میرے علم کے مطابق یہ جھوٹ اورغلط بیانی ہے، میں نے ایسا نہیں کیا۔
نوٹ: اس سے پہلے ہماری چھ سالہ ازدواجی زندگی میں بھی ہرسال جھگڑا ہوتا تھا جس بات کی وجہ سے لڑائی ہوتی تھی اس بات کو لیکرمیں اسے ڈرانے کےلیے کہتا تھا کہ ایسا ویسا نہ کرو ورنہ میں طلاق دیدوں گا۔اوریہ بھی میں اس کو کہاکرتاتھا کہ اگرتم چاہتی ہوتوکیا میں تمہیں طلاق دیدوں؟نیز کہاکرتاتھاکہ ہماری دو ہوچکی ہیں،تم سدھرجاؤ، یہ نہ ہوکہ تیسری ہوجائے،جبکہ یہ سچ نہیں ہوتا تھا یعنی دو ہوچکی ہیں جو کہتاتھا یہ بات حقیقت میں نہیں ہوتی تھی کیونکہ میں نےطلاق دی نہیں تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لفظِ ”طلاق دیدوں گا“سے کوئی طلاق نہیں ہوئی؛اس لیےکہ یہ طلاق کا وعدہ اوردھمکی کے الفاظ ہیں جن سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔نیزلفظ اگرتم چاہتی ہوتوکیا میں تمہیں طلاق دیدوں؟بھی چونکہ محض ایک سوال ہے انشاء طلاق نہیں، لہذا اگرعورت نےاس کے بعدچاہت کا اظہارنہیں کیا اورخاوند نے اس کے جواب میں طلاق نہ دی ہوتو اس جملے سے بھی کوئی طلاق نہیں ہوئی۔
جہاں تک تیسرے جملے یعنی ہماری دو ہوچکی ہیں،تم سدھرجاؤ یہ نہ ہوکہ تیسری ہوجائے،کاتعلق ہےتو اگر آپ کی نیّت اس سے دوطلاقوں کے اقرارکی تھی تویہ دوطلاقیں واقع ہوگئی ہیں،گواقرار جھوٹا ہو کیونکہ بیوی کےسامنے جھوٹے اقرار سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔اور اگر آپ کی نیّت دو طلاق کے اقرارکی نہیں تھی تو پھر اس جملے سے بھی کوئی طلاق نہیں ہوئی۔
جہاں تک آپ جملے"میں اللہ کو حاضر ناظرجانتے ہوئے طلاق دیتاہوں" کا تعلق ہے تو اس سے توبہر حال ایک طلاق واقع ہوئی ہے،اگرسابقہ جملوں سے دوطلاقیں واقع ہوئی ہوں تو تین تو ویسے ہی مکمل ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے چاہے بیوی اختلاف کرے یا نہ کرے،لیکن اگرسابقہ جملوں سے طلاق نہیں ہوئی تو پھر بیوی کے اختلاف کو دیکھا جائےگا اوراس میں درج ذیل تفصیل ہوگی ۔
صورتِ مسئولہ میں اگرآپ نےطلاق کا لفظ ایک مرتبہ استعمال کیاہو جیسے کہ آپ کا دعوی ہے تو پھر بیوی کو چاہیے کہ خدا سے ڈرے اورشوہر یعنی آپ پرپر تین طلاق کا ناحق دعوی کرکے اپنی عاقبت خراب نہ کرے احادیث شریفہ میں بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورت کے بارے میں سخت وعیدآئی ہے ، اس کے لئے جنت کی خوشبوبھی حرام ہوگی،تو اگر آپ کی بیوی کا دعوی حقیقت پر مبنی نہ ہو تو ہر گز وہ طلاق کا مطالبہ نہ کرے، تاہم اگرپھربھی وہ طلاق کا دعوی کرتی ہواورخاوندیعنی آپ تین مرتبہ طلاق کا لفظ استعمال کرنے سےمنکر ہو اورآپ کی بیوی نے خوداپنے کانوں سے آپ کے منہ سے طلاق کا لفظ تین مرتبہ سنا ہو تو پھر اگراس کے پاس دو معتبر مرد یا ایک مرد اوردومعتبر عورتوں کی گواہی مکمل ہوتوپھرتو طلاق واقع سمجھی جائےگی،اورشوہریعنی آپ کے انکارکا کوئی اعتبارنہیں ہوگا۔
اوراگر آپ کی بیوی کے پاس گواہ پورے نہ ہوں توپھرتین طلاقوں کا ثبو ت گو قضاءً نہیں ہوگا،مگر جب بیوی نے طلاق کا لفظ خود آپ سےتین مرتبہ سنا ہواوراس کو پورا یقین بھی ہو تو ایسی صورت میں اس کے لئے حلال نہیں کہ بغیر حلالہ کےآپ کو اپنی ذات پر قدرت دے اور آپ سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، بلکہ بچنے کی ہر ممکنہ کوشش کرے ، مال دے کر آپ سےخلع حاصل کرلےیا شرعی قاضی یا شرعی پنچایت کے ذریعہ کوشش کروائے ، اگراس طرح نہ ہوسکے تو عدالت کے ذریعے بھی خلع حاصل کرسکتی ہے ،کیونکہ عام حالات میں عدالتی خلع کا اعتبارنہیں ہوتا لیکن جب وہ ویسے ہی طلاق شدہ ہے تو ایک ثبوت اورقانونی حمایت کےلیے عدالتی فیصلہ حاصل کرسکتی ہے ،اگر ان میں سے کسی طریقے سے بیوی کےلیے جان خلاصی ممکن نہ ہواورآپ اسے مجبورکرتے ہوں تو اس مجبوری کی صورت میں اس کوآپ کے ساتھ رہنے کا گناہ نہیں ہوگا،مگرپورا گناہ آپ کو ہوگا ۔
حوالہ جات
فی الدر المختار للحصکفی الحنفی :
أوأنا أطلق نفیس لم یقع لأنہ وعد (الدر المختار علی هامش رد المحتار باب تفویض الطلاق ج: ۲ ص: ۶۵۷۔ط۔س۔ج۳ص۳۱۹.
وھکذا صرح فی العالمگیریۃ بأنہ لا یقع الطلاق بأطلقک لأ نہ وعد.)العالمگیریة مصری کتاب الطلاق ج ۱ ص ۳۸۴)
المبسوط - (ج 7 / ص 386)
لو قال لزينب : أنت طالق إن شئت لم تطلق عمرة ؛ لأن هذا ليس بيمين بل هو تفويض المشيئة إليها بمنزلة قوله :
اختاري ، أو أمرك بيدك.
المبسوط - (ج 8 / ص 141)
قوله : أنت طالق ثلاثا إن شئت ، فإذا قامت قبل أن تشاء خرج الأمر من يدها فلا يقع عليها شيء ؛ لأن المشيئة منها لم توجد.
وفی الشامیة:
’’ولو أقر بالطلاق كاذباً أو هازلاً وقع قضاءً لا ديانةً‘‘. (3 / 236، کتاب الطلاق، ط: سعید) فقط واللہ اعلم
البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 9 / ص 137)
ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء ا هـ .
إن أقر بطلاق سابق یکون ذٰلک إیقاعاً منہ فی الحال۔ (المبسوط للسرخي ۴؍۱۰۹ کوئٹہ، مستفاد: فتاویٰ دار العلوم ۹؍۴۲) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
الفتاوى البزازية (2/ 44)
(نوع آخر) * قال لهاترايكي أو تراسه أوترايكي وسه قال الصفارلا يقع شيء وقال الصدر يقع بالنية وبه يفتى وقال القاضي إنكان حال المذاكرة أو الغضب يقع وإلا لا يقع بلانية كا في العربي أنت واحدة۔
(رد المحتار) (3/ 147)
وَالْعُرْفُ فِي الشَّرْعِ لَهُ اعْتِبَارُ ... لِذَا عَلَيْهِ الْحُكْمُ قَدْ يُدَارُ۔
"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقاً في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة»". (1/310، باب الخلع، ط: حقانیہ(
سنن الترمذي - (ج 2 / ص 329)
عن ثوبان ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (المختلعات هن المنافقات) هذا حديث غريب من هذا الوجه وليس إسناده بالقوى . وروى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : (أيما امرأة اختلعت من زوجها من غير بأس ، لم ترح رائحة الجنة) 1199 حدثنا بذلك محمد بن بشار . حدثنا عبد الوهاب الثقفى حدثنا أيوب ،عن أبى قلابة ، عمن حدثه ، عن ثوبان : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : (أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير باس ، فحرام عليها رائحة الجنة) وهذا حديث حسن .
امراۃ اذا ادعت علی الزوج انہ طلقہا فہی للزوج مالم یثبت الطلاق نہایہ ونصابھا ای الشھادۃ لغیر من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان او رجل و امرائتان (الدرا لمختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الشھادۃ ج ۴ ص ۵۱۵۔ط۔س۔ج۵ص۴۶۵) ظفیر۔(۳)
ونصابھا ای الشھادۃ لغیر من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان او رجل و امرائتان (الدرا لمختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الشھادۃ ج ۴ ص ۵۱۵۔ط۔س۔ج۵ص۴۶۵) ظفیر
وفی الفتاوى الهندية - (3 / 353)
وإذا ادعت المرأة على زوجها أنه أبانها بثلاث أو بواحدة فجحد الزوج فحلفه القاضي فإن علمت أن الأمر كما قالت لا تسعها الإقامة معه ولا أن يأخذ ميراثها، كذا في النهاية.
وفی الفتاوى الهندية - (5 / 313)
إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه.
وفی رد المحتار (3 / 251،باب الصریح تحت قوله:ولو صرح به دیّن فقط)
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
21/11/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


