| 80482 | جائز و ناجائزامور کا بیان | غیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان |
سوال
ایک لڑکا جس کی عمر۲۳ سال ہے اور ابھی ابھی والد کے کاروبار پر جانا شروع کیا ہے۔ والد جھوٹ بولنے پر مجبور کرتے ہیں، لیکن لڑکا دل سے اس بات پر راضی بھی نہیں اور لڑکے کے لیے کسی اور روزگار کو کرنا بھی بہت مشکل ہے، جبکہ لڑکے کی نیت یہ ہو کہ ابھی تو کاروبار والد کے ختیار میں ہے جب میرے اختیار میں ہو گا تو میں ہر لحاظ سے شریعت کاحکم مانو گا۔ اب اس لڑکے کے لیےجھوٹ بولنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ اگر جھوٹ بولنے کی گنجائش نہیں تو لڑکے کے لیے والد کے کاروبار پر جانا ممکن نہیں جس کی وجہ سے لڑکے کی زندگی میں کافی مشکلات ہو ں گی ۔ لڑکا اگر کوشش کرتا رہے کہ کوئی اور کام مل جائے، جب تک کام نہ ملے کیا تب تک جھوٹ کی گنجائش ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جھوٹ کبیرہ گناہ ہےجس سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ شریعت مطہرہ نے بعض جگہوں پر گول مول بات کرنے کی اجازت دی ہے، واضح اور صریح جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں ہے اور والد صاحب کا آپ کو جھوٹ بولنے پر مجبور کرنا جائز نہیں ہے۔جب تک دوسری جگہ کام نہیں مل جاتا، تب تک والد صاحب کے ساتھ ہی کام کریں اور جھوٹ سے بچنے کی کوشش کریں۔
حوالہ جات
الدر المختار (6/ 427)
الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه والمراد التعريض لأن عين الكذب حرام
قال وهو الحق قال تعالى { قتل الخراصون } الكل من المجتبى وفي الوهبانية قال وللصلح جاز الكذب أو دفع ظالم
عمر فاروق
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
۲۲/ذو القعدہ/۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


