| 80459 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !جناب مفتی صاحب!
چند ساتھیوں نے ایک مسلمان سرمایہ کار کو سرمایہ کاری کےلئے رقم دی، معاہدہ یہ تھا کہ وہ منافع سے مزید سرمایہ کاری بھی کرےگا اورجب منافع کچھ بڑھے تو اپنے ساتھیوں کو بھی دےگا ،اس نے ایک مرتبہ ایک ساتھی کو بتایا کہ آپ کی قیمت سے میں نے یہ زمین خرید کر یہ عمارت بنوائی ،ممکن ہے کہ اس خرچہ میں دوسرے لوگوں کا مال بھی لگا ہو ،کئی سال گذر گئے، لیکن اس نے اپنے ساتھیوں کو ایک مرتبہ بھی نفع تو دور کی بات، اصل رقم بھی واپس ادا نہیں کی، اتنے سالوں میں اس نے کبھی حساب بھی نھیں بتایا ،اب وہ کچھ عرصہ سے مزید قرضے کی وجہ سے گم ہو گیا ہے ، صرف فون پر اگر وہ ساتھی اس تک پہنچ سکے تو کہتا ہے کہ میں آپ کو اپنی رقم ادا کرونگا، لیکن اس نے اب تک ان کو کچھ ادانہیں کیا،ان ساتھیوں پر کسی طرح زکوٰۃ لازم ہے ؟ اگر ہے تو کس طرح ؟ اور كيسے اس زکوٰۃ کا حساب لگائیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس رقم کی وصولیابی کی امید بالکل ختم ہو گئی ہو (جس کو عرف عام میں Dead amount کہا جاتا ہے) اس رقم پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
اگر ایسی رقم کبھی وصول ہو جائے تو گذشتہ سالوں کی زکوۃ لازم نہیں ہو گی، البتہ جس وقت اس کا کچھ حصہ وصول ہو جائے اس وقت اگر دوسرے اموال زکوٰۃ موجود ہوں تو ان کے ساتھ ملاکر،نصاب کو پہنچنے کی صورت میں اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔اگر نصاب کو نہ پہنچے تو زکوة کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی۔
ہاں ! اگر وصولیابی میں بالکل مایوسی نہ ہوئی ہو، بلکہ دونوں احتمالات ہوں کہ ملے یا نہ ملے، تو زکوة لازم ہوگی،اس وقت بھی ادائیگی کرسکتے ہیں اور رقم کے وصول ہونے تک بھی مؤخر کر سکتے ہیں،تاہم اس صورت میں رقم ملنے پر پچھلے سالوں کی زکوٰة بھی ادا کرنی ہوگی،جس کی صورت یہ ہے کہ جتنی رقم وصول ہو جائے،
اولاً اس سال کی زکوٰة ادا کی جائے اور پھر بقیہ رقم میں سے سابقہ سالوں کی زکوٰة ادا کی جائے۔
حوالہ جات
وفی البدائع(2/9):
"فلا تجب الزكاة في المال الضمار عندنا خلافا لهما.
وتفسير مال الضمار هو كل مال غير مقدور الانتفاع به مع قيام أصل الملك كالعبد الآبق والضال، والمال المفقود، والمال الساقط في البحر، والمال الذي أخذه السلطان مصادرة."
تبیین الحقائق (1/255):
يشترط لوجوب الزكاة أن يكون ناميا حقيقة بالتوالد والتناسل وبالتجارات أو تقديرا بأن يتمكن من الاستنماء بكون المال في يده أو يد نائبه لما ذكرنا أن السبب هو المال النامي فلا بد منه تحقيقا أو تقديرا فإن لم يتمكن من الاستنماء فلا زكاة عليه لفقد شرطه وذلك مثل مال الضمار كالآبق والمفقود۔۔۔۔۔والدين المجحود إذا لم يكن عليه بينة ثم صارت له بعد سنين بأن أقر عند الناس، وإن كان المودع من معارفه تجب عليه زكاة الماضي إذا تذكر۔۔۔۔۔وقال الحسن بن زياد: لا تجب إذا كان الغريم فقيرا؛ لأنه لا ينتفع به، وكذا قال محمد: إذا كان مفلسا بناء على تحقق الإفلاس بالتفليس عنده وأبو يوسف معه فيه
البحر الرائق (2/222):
وفي الشرع هو نوعان حقيقي وتقديري فالحقيقي الزيادة بالتوالد والتناسل والتجارات، والتقديري تمكنه من الزيادة بكون المال في يده أو في يد نائبه فلا زكاة على من لم يتمكن منها في ماله كمال الضمار، وهو في اللغة الغائب الذي لا يرجى فإذا رجي فليس بضمار، وأصله الإضمار، وهو التغييب والإخفاء۔۔۔۔۔۔ومال الضمار هو الدين المجحود۔۔۔۔ولو كان على مقر مفلس فهو نصاب عند أبي حنيفة؛ لأن تفليس القاضي لا يصح عنده، وعند محمد لا يجب لتحقق الإفلاس عنده بالتفليس وأبو يوسف مع محمد في تحقق الإفلاس، ومع أبي حنيفة في حكم الزكاة رعاية لجانب الفقراء كذا في الهداية فأفاد أنه إذا قبض الدين زكاه لما مضى
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
24/ذیقعدہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


