| 80425 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
میری والدہ صاحبہ گاؤں کے ایک اسکول میں ہیڈ ٹیچر ہے اور اس اسکول میں میرا چچا کلاس فور،جبکہ مامی ٹیچر ہے،میرا چچا اور مامی شہر میں رہتے ہیں،جس کی وجہ سے زیادہ تر اسکول نہیں جاتے،ان دونوں کے لئے میری والدہ صاحبہ حاضری لگاتی ہے،کیا یہ حاضری لگانا میری والدہ صاحبہ کے لئے ایسا کرنا جائز ہے،کیونکہ زیادہ تر وہ دونوں غیر حاضر رہتے ہیں؟
نیز میرا چچا اور مامی جو تنخواہ لیتے ہیں کیا وہ ان دونوں کے لئے حلال ہیں؟
واضح رہے کہ اسکول شہر سے بہت دور ہے جس کی وجہ سے روزانہ اسکول جانا مشکل ہوتا ہے،اس لئے یہ لوگ روزانہ نہیں جاپاتے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حکومت کی طرف سے جتنا وقت اسکول میں رہنے اور پڑھانے کے لئے متعین ہے،اس میں حاضری کی پابندی شرعا لازم ہے،کیونکہ تنخواہ اس پورے نظم کی پابندی کا معاوضہ ہے،لہذا آپ کے جتنے دن آپ کے چچا اور مامی اسکول نہیں جاتے اتنے دن کی تنخواہ ان کے لئے حلال نہیں۔
نیز آپ کی والدہ کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ ان دونوں کے اسکول سے غیر حاضری کے باوجود خود ان کی حاضری لگائے،کیونکہ یہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال ہے،لہذا آئندہ اس سے احتراز لازم ہے اور اب تک جو کیا ہے اس پر صدق دل سے توبہ واستغفار لازم ہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (6/ 69):
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا.
وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
24/ذی قعدہ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


