03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر حاضری کے ایام کی تنخواہ کا استعمال
80426جائز و ناجائزامور کا بیانکھانے پینے کے مسائل

سوال

 میرا چچا میرے والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں رہتے ہیں اور میرے والد صاحب کو گھریلو خرچے میں پیسے بھی دیتے ہیں تو جو پیسے وہ میرے والد صاحب کو گھریلو خرچ کے لئے دیتے ہیں،اس کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کے چچا کا اسکول کی تنخواہ کے علاوہ کوئی اور ذریعہ آمدن نہیں ہے اور ان کی تنخواہ کا اکثر حصہ ان کے اسکول سے غیر حاضر رہنے والے والے دنوں کے معاوضے پر مشتمل ہوتا ہے جیسا کہ سوال میں تصریح کی گئی ہے تو پھر ان کی جانب سے دی گئی رقم گھریلو خرچ میں استعمال کرنا درست نہیں،کیونکہ ان کے لئے اسکول سے غیر حاضری کے دنوں کی تنخواہ  لیناحلال نہیں۔

حوالہ جات

"رد المحتار "( 26 / 453) :

"وقال في النهاية : قال بعض مشايخنا : كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه ، وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة ، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم ، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه ا هـ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

24/ذی قعدہ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب