| 81133 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ ملک رحمت اللہ کے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ محمد انور، محمد عمر، میر حسن، محمد اسلم اور بلقیس (بیٹی)۔ ملک رحمت اللہ کی زندگی میں محمد انور کا انتقال ہو گیا، انہوں نے کچھ زمین (1/4.5) محمد انور کے بچوں کے نام منتقل کر دی۔ اس کے بعد ملک رحمت اللہ فوت ہو گئے ، ان کے بعد میر حسن کا بھی انتقال ہو گیا۔ میر حسن کے بعد بلقیس فوت ہو گئیں جبکہ انکی شادی نہیں ہوئی تھی، ان کے انتقال کے بعد جائیداد تقسیم کی گئی کا غذات کو دیکھے بغیر موقع پر جوز مین تھی اس کے چار برابر حصے کر کے چاروں بھائیوں کے حصے میں ایک ایک حصہ دے دیا گیا۔ اس وقت محمد عمر اور محمد اسلم زندہ تھے اور انہوں نے اس تقسیم پر رضامندی ظاہر کی، اب محمد عمر اور محمد اسلم فوت ہو چکے ہیں۔ انکی اولاد کا کہنا ہے کہ جو زمین ملک رحمت اللہ نے اپنے پوتوں، پوتیوں ( محمد انور کے ورثا ء ) کو دے دی تھی آپ کے حصے میں وہی آتی ہے، مزید کچھ نہیں مطلب کے پھوپھو ( بلقیس) کے حصے سے محمد انور اور میرحسن کے بچوں کو کچھ نہیں ملے گا،برائے مہربانی اس مسئلہ کی شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
وضاحت: بلقیس کنواری تھی اس لیے ورثاء میں صرف دو بھائی تھے، والدہ کاانتقال والد کے انتقال سے بھی پہلے ہوگیا تھا۔
ملک رحمت اللہ کی کل زمین29.25 کنال تھی، جس میں سے انہوں نے اپنے پوتے پوتیوں کے نام ساڑھے چھ کنال زمین کی تھی، البتہ 6.5 کنال زمین بغیر کسی مخصوص حصے کی تعین کے پوتے پوتیوں کے نام کی گئی تھی۔ باقی لوگ گاؤں میں موجود نہیں تھے صرف محمد اسلم موجود تھے لہٰذا وہی پوری زمین کی دیکھ بھال اور اس میں کاشتکاری کرتے تھے اور تمام لوگوں کو ان کے حصے کے مطابق پیداوار بھیجا کرتے تھے۔ پھر 2007 میں بلقیس اور سائل کے والد (محمد انور کے بیٹے)کے انتقال کے بعد سائل کے کہنے پر زمین کی تقسیم کے لیے سب گاؤں میں جمع ہوئے، جس میں یہ طے پایا کہ زمین کو کل چار حصوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے۔ اس ملاقات میں محمد عمر،محمد اسلم کے علاوہ میر حسن کے بڑے بیٹے اور سائل موجود تھے۔ اس نشست میں کاغذ پر نقشہ بنا کر زمین کو باقاعدہ چار حصوں میں تقسیم کیا گیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ملک رحمت اللہ نے اپنے پوتو، پوتیوں جس طریقے سے زمین ہبہ(تحفہ)کی تھی وہ درست نہیں تھا، انہوں نے کل زمین میں سے ساڑھے چھ کنال بغیر کسی تعیین یعنی باقاعدہ تقسیم اور الگ کر کے نہیں دیا، اس طریقے کو شرعا ہبۃ المشاع کہا جاتا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ لہٰذا یہ گفٹ مکمل نہ ہوا اور پوری زمین ملک رحمت اللہ کی ملکیت ہی میں رہی جو کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء کی ہوگئی۔
دوسری بات یہ کہ بلقیس کو اپنے والد ملک رحمت اللہ سے جو زمین وراثت میں ملی، بلقیس کے انتقال کے بعد اس میں ان کے ورثاء کا حق تھا اور بلقیس کے شرعی ورثاء میں صرف دو بھائی محمد عمر اور محمد اسلم تھے۔ باقی دونوں بھائی محمد انور اور میر حسن اسی طرح ان کی اولاد کا شرعاً بلقیس کی زمین میں کوئی حق نہیں تھا۔
لیکن جب 2007میں محمد عمر اور محمد اسلم اور میر حسن کے بڑے بیٹے کی موجودگی میں زمین چار برابر حصوں میں تقسیم کی گئی اور وہ اس پر راضی تھے تو یہ تقسیم درست ہوئی اور محمد انور کی اولاد کو جو زمین اس تقسیم کے نتیجے میں ملی وہ درست ہے، اسی طرح میر حسن کی اولاد کو بلقیس کے حصے کی جو زمین ملی وہ بھی درست ہے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (5/ 692)
وذكر قبله هبة المشاع فيما يقسم لا تفيد الملك عند أبي حنيفة وفي القهستاني لا تفيد الملك وهو المختار كما في المضمرات وهذا مروي عن أبي حنيفة وهو الصحيح ا هـ.
حاشية ابن عابدين (5/ 661)
قوله ( حصة الهبة ) لأن هبة المشاع الذي يقبل القسمة غير صحيحة.
الموسوعة الفقهية الكويتية (32/ 275)
والثاني للحنفية ، وهو أنه يشترط في صحة القبض ألا يكون المقبوض حصة شائعة ، وذلك لأن معنى القبض إثبات اليد والتمكن من التصرف في الشيء المقبوض ، وتحقق ذلك في الجزء الشائع وحده لا يتصور ، فإن سكنى بعض الدار شائعا ولبس بعض الثوب شائعا محال ، وإن قابضه لا يتمكن من التصرف فيه ولو حاز الكل ، نظرا لتعلق حق الشريك به.
عمر فاروق
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
7/صفر1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


