| 81136 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی محبوبہ کو یہ بولا کہ جب بھی میرا نکاح ہو یا جب بھی میں نکاح کروں اگر میرا نکاح آپ کے علاوہ میرے گھر والے کسی اور سے کرنے کی کوشش کریں تو آپ سے نکاح سے پہلے یا آپ سے نکاح کے بعد یا آپ کے مرنے کے بعد جس جس سے کر دیں تو جب جس جس سے بھی نکاح کریں یا میں جس جس سے نکاح کروں تو جس جس سے بھی ہو جس بھی صورت میں ہو، سب کو میں تین طلاقیں دیتا ہوں دے دیں ۔۔یہ الفاظ تین دفعہ کہےہیں،میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب میری محبوبہ سے شادی ہونے والی ہے۔۔۔
تو کیا اس شادی کے بعد یا پہلے یا مرنے کے بعد میں دوسری شادی کرسکتا ہوں یا نہیں۔؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ آپ نےتین طلاقوں کومحبوبہ کےعلاوہ کسی سےنکاح کرنےکےساتھ معلق کیاہے،اورشرط میں اس کو بھی شامل کیاہےکہ محبوبہ سےنکاح کےبعد بھی اگرکسی سےنکاح کیاتو طلاق ہوجائےگی،اس بناء پرشرعابھی یہ تعلیق لاگوہوگی،اس لیےمحبوبہ سےشادی کےبعد بھی آپ کسی اورسےشادی نہیں کرسکتے۔
محبوبہ کےعلاوہ جب کبھی بھی کسی سےبھی شادی کریں گےتواس کو تین طلاق واقع ہوجائیں گی۔
حوالہ جات
"الهداية في شرح بداية المبتدي"1/ 243:باب الأيمان في الطلاق وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح مثل أن يقول لامرأة إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق۔
"بداية المبتدى في فقه الإمام أبي حنيفة" 1 / 72: وألفاظ الشرط إن وإذا وإذاما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاط إذا وجد الشرط انحلت وانتهت اليمين إلا في كلمة كلما فإنها تقتضي تعميم الأفعال فإن تزوجها بعد ذلك وتكرر الشرط لم يقع شيء ولو دخلت على نفس التزوج بأن قال كلما تزوجت امرأة فهي طالق يحنث بكل مرة وإن كان بعد زوج آخر۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
09/صفر 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


