03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
محبوبہ کےعلاوہ جس سےبھی اورجب بھی نکاح کروں تو تین طلاق
81136طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی محبوبہ کو یہ بولا کہ جب بھی میرا نکاح ہو یا جب بھی میں نکاح کروں اگر میرا نکاح آپ کے علاوہ میرے گھر والے کسی اور سے  کرنے کی کوشش کریں تو آپ سے نکاح سے پہلے یا آپ سے نکاح کے بعد یا آپ کے مرنے کے بعد جس جس سے کر دیں تو جب جس جس سے بھی نکاح کریں یا میں جس جس سے نکاح کروں تو جس جس سے بھی ہو جس بھی صورت میں ہو، سب کو میں  تین طلاقیں دیتا ہوں دے دیں ۔۔یہ الفاظ تین دفعہ کہےہیں،میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب میری محبوبہ سے شادی ہونے والی ہے۔۔۔

تو کیا  اس شادی کے بعد یا پہلے یا مرنے کے بعد میں  دوسری شادی کرسکتا ہوں یا نہیں۔؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ آپ نےتین طلاقوں کومحبوبہ کےعلاوہ کسی سےنکاح کرنےکےساتھ معلق کیاہے،اورشرط میں اس کو بھی شامل کیاہےکہ محبوبہ سےنکاح کےبعد بھی اگرکسی سےنکاح کیاتو طلاق ہوجائےگی،اس بناء پرشرعابھی یہ تعلیق لاگوہوگی،اس لیےمحبوبہ سےشادی کےبعد بھی آپ کسی اورسےشادی نہیں کرسکتے۔

محبوبہ کےعلاوہ جب کبھی بھی کسی سےبھی شادی کریں گےتواس کو تین طلاق واقع ہوجائیں گی۔

حوالہ جات

"الهداية في شرح بداية المبتدي"1/ 243:باب الأيمان في الطلاق وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح مثل أن يقول لامرأة إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق۔

"بداية المبتدى في فقه الإمام أبي حنيفة" 1 /  72: وألفاظ الشرط إن وإذا وإذاما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاط إذا وجد الشرط انحلت وانتهت اليمين إلا في كلمة كلما فإنها تقتضي تعميم الأفعال فإن تزوجها بعد ذلك وتكرر الشرط لم يقع شيء ولو دخلت على نفس التزوج بأن قال كلما تزوجت امرأة فهي طالق يحنث بكل مرة وإن كان بعد زوج آخر۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

09/صفر      1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب