| 82481 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
راحیل صاحب کا سجیل صاحب کے ساتھ مشترکہ گھر تھا۔جس کے دونوں برابر کے حصہ دار تھے۔ان کے والد کی زندگی میں بنک میں کچھ رقم بھی تھی جس میں اسی لاکھ کے قریب رقم کے سجیل صاحب نے پلاٹ لیے جس کا منافع ان کا ہونا تھا، لیکن نیب میں ان پرکیس کی وجہ سے انہو ں نے بیچے نہیں اور ان کی قیمت بڑھتی رہی اور راحیل صاحب نے گاڑی کا کام کیا اور منافع لے کر اصل رقم لوٹا دی۔بعد میں اسی بنک کی رقم سے جو کہ ایک کڑور 70 لاکھ تھی، راحیل صاحب بنک کے ذریعے گھر لے رہے تھے، جبکہ ان کے والد نے کہا تھا کہ گھر میں جو حصے کے پیسے راحیل صاحب کے بچیں گے وہ سجیل صاحب ادا کریں گے جس سے قسط دینے میں آسانی ہو جائے گی۔لیکن اسی دوران ان کی وفات ہو گئی اور راحیل صاحب کو ان کی بہن کے ساتھ مشترکہ گھر لینا پڑا۔ نیب کی وجہ سے یہ گھر صرف بہن کے نام سے لیا گیا،ان کی بہن نے کہا کہ اس کا گھر اس کے بعد ہمارا ہو جائے گا، لیکن اس کی زندگی میں اسکے نام ہو گا اور یوں ان بھائیوں میں زبانی یہ طے پایا کہ پرانا گھر سجیل صاحب کا ہو جائے گا ۔ساتھ راحیل صاحب نے سارے پلاٹ بھی ان کو دیے جو انھوں نے خریدے تھے، کیونکہ انہیں پرانا گھر مل رہا تھا۔ اب نئے گھر میں ہم اکٹھے نہیں چل سکے اور الگ ہونا چاہتے ہیں۔آپ سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہم نے اس گھر کا حصہ اس بات پر مشروط چھوڑ ا تھا کہ نیا گھر بہن کے بعد ہمارا ہو گا جو کہ اب نہیں رہا تو کیا ہمیں ہمارے پرانے گھر سے حصہ ملے گا؟دوسرا یہ کہ اگر حصہ ملے گا تو جو پلاٹ کے مقابل رقم ایک کڑور 70لاکھ ہم نے لئے وہ 80لاکھ سے ایڈجسٹ ہوں گےتو اس کا آپس میں کیا طریقہ کار ہو گا ؟کیونکہ ہم وہ رقم گھر خریدنے میں لگا چکے ہیں ۔ برائےمہربانی رہنمائی فرما دیں:
1- پرانا مشترکہ گھر راحیل صاحب اور سجیل صاحب دونوں کے نام تھا جو کہ ان کے پچھلے گھر سے شفٹ ہونے پر خریدا گیا ۔ہم ان کے ساتھ تقریبآ 18 سال اکٹھے رہے۔
2۔بنک کی رقم سے ان دونوں کو کاروبار کرنے کو کہا ۔منافع لے کر اصل رقم بنک میں واپس ڈالنی تھی۔
3۔سجیل صاحب نےاپنے نام سے خریدکر پلاٹ کا کام شروع کیا، لیکن نیب کی وجہ سے پلاٹ بیچے نہیں ۔منافع کی رقم ان کی تھی اصل واپس اکاؤنٹ میں دینی تھی۔راحیل صاحب نے 2 گاڑیاں لی ،منافع رکھ کر رقم لوٹا دی۔
4۔سب زبانی معاملہ تھا گھر ان کے نام نہیں کیا ۔پلاٹ پہلے ہی ان کے نام سے انہوں نے خریدے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ والد کا ترکہ باقاعدہ تقسیم نہیں ہوا،اس لیےنیا گھر اور پرانا گھر دونوں والد کے ترکہ میں شامل ہیں،اس لیے کہ نیا گھر بھی والد کی رقم سے خریدا گیا ہے، لہذا دونوں گھر والد کے ترکہ میں تقسیم ہونگے اور ہر گھر میں تمام ورثہ کا حصہ ہوگا اوروالد کی بینک میں جمع کردہ میں سے جس جس قدر رقم جس بھائی نے بطور قرض لی تھی وہ رقم وہ ترکہ میں شامل کرے گا اور منافع کی رقم کا وہ خود مالک ہوگا اور ترکہ میں شامل نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۴جمادی الثانیۃ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


