03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موہوبہ مکان پر قبضہ کیا رجسٹری نہیں ہوئی
90460ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں کہ:ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں قریبی عزیز و اقارب کی موجودگی میں اپنے اکلوتے بیٹے محمد مقبول کو الگ کرتے ہوئے مکان کا نصف حصہ اسے دے دیا تھا، اور ہدایت کی تھی کہ وہ درمیان میں دیوار کھڑی کر لے تاکہ روزمرہ کے جھگڑوں سے نجات مل سکے۔ بیٹے نے مالی تنگی کی وجہ سے دیوار کی تعمیر سے معذرت کی اور والد سے ہی اس کا مطالبہ کیا، جبکہ والد صاحب بضد تھے کہ دیوار کا خرچ بیٹا ہی برداشت کرے۔ اس دوران مشترکہ کاروبار بھی الگ کر لیا گیا تھا۔ والد کا دیا ہوا نصف حصہ دو کمروں پر مشتمل تھا، جس پر محمد مقبول نے قبضہ حاصل کر کے اس کی مرمت کی، اسے قابلِ رہائش بنایا اور وہاں مقیم ہو گیا۔ مزید برآں، والد کے ایما پر اپنے نام سے بجلی کے دو الگ میٹر لگوائے جن کے بل وہ خود ادا کرتا رہا۔ گھریلو ناچاقیوں کے باعث محمد مقبول کا اپنی والدہ اور بہنوں سے جھگڑا معمول تھا، جس پر والد صاحب غصے میں دیوار کی تعمیر کا تقاضا کرتے تھے، مگر دیوار تعمیر نہ ہو سکی۔تقریباً 15، 16 سال تک یہی صورتحال رہی کہ نصف مکان محمد مقبول کے قبضے اور استعمال میں رہا جبکہ نصف والد صاحب کے زیرِ استعمال رہا۔ مکان کے کاغذات والد ہی کے نام رہے اور انہوں نے باقاعدہ رجسٹری بیٹے کے نام نہیں کروائی، نہ ہی بیٹے نے اس کا مطالبہ کیا۔ تاہم، والد نے کبھی اپنا دیا ہوا حصہ واپس نہیں مانگا اور تمام اہلِ خانہ (والدہ، 6 بہنیں اور ایک بھائی) اس بات سے واقف تھے کہ یہ نصف حصہ محمد مقبول کو دیا جا چکا ہے۔ اب والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے اور دیگر تمام جائیداد باہمی رضامندی سے تقسیم ہو گئی ہے، صرف یہی مکان باقی ہے۔ والدہ سمیت تمام بہنیں اس بات پر متفق ہیں کہ والد نے یہ نصف حصہ بیٹے کو دیا تھا، مگر اب اختلاف یہ ہے کہ محمد مقبول کا موقف ہے کہ یہ حصہ 16 سال قبل اسے مل چکا ہے اور اس کے قبضے میں ہے، لہٰذا صرف باقی ماندہ نصف مکان ہی وراثت میں تقسیم ہوگا۔ جبکہ دو بہنوں کا کہنا ہے کہ چونکہ رجسٹری نہیں ہوئی، اس لیے پورا مکان والد کی ملکیت شمار ہوگا اور مکمل مکان بطورِ میراث تقسیم ہوگا۔سوال یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے وہ نصف مکان، جو والد نے زندگی میں بیٹے کو دے دیا تھا اور جس پر بیٹے کا قبضہ و تصرف بھی رہا مگر رجسٹری نہیں ہوئی، کیا وہ بیٹے کی ملکیت شمار ہوگا یا بدستور والد کی ملکیت رہ کر مکمل مکان میراث میں شامل ہوگا؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

(نوٹ) یہ سوال والدہ اور تمام بہنوں نے متفقہ طور پر مرتب کیا ہے اور اس عمل میں قریبی عزیز بھی شامل تھے۔ سوائے ایک بہن کے، تمام کے شناختی کارڈز کی نقول بھی منسلک ہیں۔     

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  صورتِ مسئولہ سائل کےبیان کےمطابق جب والد نے اپنی زندگی میں مکان کا نصف حصہ محمد مقبول کو ملکیتاًدے کر اس پر قبضہ و تصرف بھی دے دیا تھا اور بیٹا والد کی وفات تک اس میں مختلف مالکانہ تصرفات بھی کرتا رہا، تو شرعاً یہ ہبہ مکمل ہو چکا ہے۔ اب یہ نصف حصہ محمد مقبول کی ذاتی ملکیت ہے اور والد کا ترکہ شمار نہیں ہوگا۔ نیزہبہ کے شرعی طور پر درست ہونے کے لیے قانونی رجسٹری یا کاغذات کی منتقلی شرط نہیں ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (4/ 374)

ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب حتى لو وهب أرضا فيها زرع للواهب دون الزرع، أو عكسه أو نخلا فيها ثمرة للواهب معلقة به دون الثمرة، أو عكسه لا تجوز، وكذا لو وهب دارا أو ظرفا فيها متاع للواهب، كذا في النهاية.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (5/ 690)

وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق: (5/ 91)

 (قوله وشرطها) قال الأتقاني وأما شرط جوازها فالقبض حتى لا يثبت الملك للموهوب له عندنا قبل القبض خلافا لابن أبي ليلى ومالك فإنه ليس بشرط عندهما وكونها غير مشاع إذا كانت مما يحتمل القسمة شرط الجواز أيضا.

رشيدخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

29/ذو القعدہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب