03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ ملکیت میں ذاتی ملکیت کا دعویٰ کرنا
90342تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

    تین بھائی (زید، عمر، بکر) باپ کی زندگی میں  مشترکہ کاروبار میں نفع و نقصان کے شریک رہے۔ زید کو خرید و فروخت کا اختیار حاصل تھا۔ سنہ 1999 تک شرکت ثابت ہے۔ زید نے 1999 سے پہلے جو جنگلات خریدے وہ سب مشترکہ ملکیت میں تھے۔ زید کے انتقال (2012) کے بعد ان کے بیٹوں نے دعویٰ کیا کہ ایک مخصوص جنگل دراصل زید کی ذاتی ملکیت تھا بقول زید، جبکہ زید کے بھائیوں نے اس کی تردید کی اور اسے بھی باقی جنگلات کی طرح مشترکہ ملکیت قرار دیا۔ اب اختلاف اس بات پر ہے کہ مدعی کون ہے اور مدعا علیہ کون؟ کیا مدعی وہ ہوگا جو سابقہ شرکت کے خلاف نیا دعویٰ کرے؟ یا وہ جو شرکت پر قائم رہے؟ شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ جزاکم اللہ خیراً

تنقیح:سائل سے زبانی پوچھنے   پر  اس نے بتایا کہ یہ  سارے جنگلات  شروع سے  مشترک  چلے آرہے ہیں ،لیکن اب   وہ             ا       ِن میں سے   ایک خاص جنگل پر  دعویٰ  کررہے ہیں ۔اور قبضہ بھی  اُن کا نہیں ہے ۔ اور   گاوں  میں ایک مفتی نے   اُن سے  قسم لے کر اُن  کے حق میں فیصلہ کیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں  بیان کی گئی  تفصیل کی روشنی میں   زید کے بیٹے مدعی ہیں اور اس کے بھائی مدعٰی علیہ ہیں ۔مدعی وہ شخص ہوتا ہے جو کسی حق کو اپنی طرف منسوب کر کے اس کا دعویٰ کرے، جبکہ مدعیٰ علیہ وہ شخص ہوتا ہے  جس سے وہ حق طلب کیا جائے اور وہ اس کا انکار کرے ۔  بعض فقہاء  نے  مدعی کی تعریف یہ کی ہے  کہ مدعی وہ ہے کہ اگر وہ  اپنے دعوے کو چھوڑ دے تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا، اور مدعیٰ علیہ وہ ہے کہ اگر وہ  خصومت سے الگ ہونا چاہے تو اسے مجبور کیا جائے گا۔ اس تعریف کے اعتبار سےبھی     زید کے بیٹے مدعی بنتے ہیں اور زید کے بھائی مدعیٰ علیہ بنتے ہیں ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(5/ 542):

(والمدعي من إذا ترك) دعواه (ترك) أي لا يجبر عليها (والمدعى عليه بخلافه) أي يجبر عليها،

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (4/ 173):

(الدعوى هي طلب أحد حقه من آخر في حضور القاضي، ويقال له المدعي، وللآخر المدعى عليه) .  الدعوى لغة هي قول يقصد به الإنسان إيجاب الحق على غيره. وشرعا هي طلب أحد حقه من آخر قولا أو كتابة في حضور القاضي حال المنازعة بلفظ يدل على الجزم بإضافة الحق إلى نفسه، أو إلى الشخص الذي ينوب عنه. مثلا: لو ادعى أحد على آخر قائلا في حضور الحاكم: إن هذه العين لي فيكون قد أضاف الحق إلى نفسه.     وإذا قال الوكيل: إن هذا المال لموكلي، أو قال الولي إن هذا المال للصغير فلان الذي تحت ولايتي فيكون قد أضاف الحق إلى الشخص الذي ناب عنه (الهندية بزيادة) .

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (4/ 175):

فإذا فصلت هذه التعاريف أصبح ‌تعريف ‌المدعي هو الشخص الذي يطلب حقه في حضور القاضي وتعريف المدعى عليه هو الشخص الذي يطلب منه حق في حضور القاضي.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 224):

وأما بيان حد المدعي والمدعى عليه فقد اختلفت عبارات المشايخ في تحديدهما قال بعضهم المدعي من إذا ترك الخصومة لا يجبر عليها والمدعى عليه من إذا ترك الجواب يجبر عليه وقال بعضهم المدعي من يلتمس قبل غيره لنفسه عينا أو دينا أو حقا والمدعى عليه من يدفع ذلك عن نفسه وقال بعضهم ينظر إلى المتخاصمين أيهما كان منكرا فالآخر يكون مدعيا وقال بعضهم المدعي من يخبر عما في يد غيره لنفسه والمدعى عليه من يخبر عما في يد نفسه لنفسه فينفصلان بذلك عن الشاهد والمقر والشاهد من يخبر عما في يد غيره لغيره والمقر من يخبر عما في يد نفسه لغيره.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 3):

(وأما معرفة المدعي من المدعى عليه) فهي أن المدعي من لا يجبر على الخصومة إذا تركها والمدعى عليه من يجبر على الخصومة وهذا حد عام صحيح وقال محمد رحمه الله في الأصل المدعى عليه هو المنكر وهذا صحيح۔۔۔۔۔

وسیم اکرم بن محمد ایوب  

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 18/ذوالقعدہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب