| 83071 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
سوال:اور اولاد کے بارے میں کیا فیصلہ ہوگا ؟ مرد کے پاس کب آئے گی، عورت کے پاس کب آئے گی یا عورت کے پاس رہے گی یا مرد کے پاس رہے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میاں بیوی میں جدائی کےبعداولادکی پرورش کاشرعاحکم یہ ہےکہ لڑکے کی پرورش کاحق اس کی ماں کوہوتاہے،بشرطیکہ وہ سات سال سے کم عمر کاہواورلڑکی کی پرورش کاحق بھی بالغ ہونے تک اس کی ماں کوہے۔
صورت مسئولہ میں بچے کےبالغ ہونےتک پرورش کاحق والدہ کوہوگا،بشرطیکہ بچوں کی ماں کسی اورایسےشخص سےنکاح نہ کرے،جوان بچیوں کےلیےنامحرم ہو،بلوغت کےبعدبچوں کو اختیارہوگاکہ ماں باپ میں سےجس کےپاس رہناچاہیں۔
حوالہ جات
"رد المحتار " 13 / 53:
( والحاضنة ) أما ، أو غيرها ( أحق به ) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب ۔
ولو اختلفا في سنه ، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا ( والأم والجدة ) لأم ، أو لأب ( أحق بها ) بالصغيرة ( حتى تحيض ) أي تبلغ في ظاهر الرواية۔
"العناية شرح الهداية"4/ 367:
وإذا وقعت الفرقة بين الزوجين فالأم أحق بالولد) لما روي «أن امرأة قالت: يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء وزعم أبوه أنه ينزعه مني، فقال - عليه الصلاة والسلام -: أنت أحق به ما لم تتزوجي۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
29/رجب 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


